برطانیہ میں ایرانی عمارت

Image caption یہاں آخری بار سنہ 2010 میں آگ لگی تھی جس کے نتیجے میں عمارت کی بالائی منزل اور تہہ خانے میں آگ لگ گئی تھی

برطانیہ کے علاقے گریٹر مانچیسٹر میں واقع بوسیدہ حویلی حکومتِ ایران کی ملکیت ہے لیکن کوئی بھی اس سے جان چھڑانے کے لیے تیار نہیں ہے، کیوں؟

سڑک پر موجود اس لاوارث عمارت کے گرد لاکھوں مالیت کی پراپرٹی ہے۔

یہ سرسبز جگہ ریئل اسٹیٹ کا مرکز ہونی چاہیے لیکن یہاں ایک گھر کو گرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

ایک وقت تھا جب بریکینڈین ایک وسیع جگہ تھی، جہاں گرین ہاؤس، سوئمنگ پول اور ملازموں کے مکانات تھے۔

اب اس سرخ حویلی کی چھت پر سوراخ ہو چکا ہے، اور بڑھے ہوئے درختوں کے درمیان اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔

چوروں نے بہت پہلے ہی یہاں سے قیمتی اشیا کو اٹھا لیا تھا۔

اس جگہ کو غارت گری کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسے تین بار جلایا جا چکا ہے اور یہ غیرقانونی طور پر گندگی کے ڈھیر کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

یہاں آخری بار سنہ 2010 میں آگ لگی تھی جس کے نتیجے میں عمارت کی بالائی منزل اور تہہ خانے میں آگ لگ گئی تھی۔

یہ املاک کو تباہی کے لیے چھوڑ دینے کی عام سی کہانی نہیں ہے۔

یہ گریٹر مانچیسٹر کے ایک دیہات باؤڈن میں موجود ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا تعلق ایران سے ہے۔

عامر بارک مانچیسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی استاد ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایرانیوں نے اسے 70 کی دہائی میں خریدا تھا۔ ایک وقت تھا جب وہاں ایران کے قونصل جنرل رہا کرتے تھے اور اس وقت یہ عمارت بہت اچھی حالت میں تھی۔

Image caption یہ گریٹر مانچیسٹر کے ایک دیہات باؤڈن میں موجود ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا تعلق ایران سے ہے

عامر ایرانی قونصلیٹ میں کام بھی کرتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مانچیسٹر کی بڑی بڑی تقریبات کا انعقاد اسی عمارت میں ہوا کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد اس عمارت کو خالی کر دیا گیا۔

اس وقت سے اب تک ایران اور برطانیہ کے درمیان مشکلات کا شکار سفارتی تعلقات کی عکاسی اس گھر کی حالت سے بھی ہوتی ہے۔

تاریخی انداز میں بنائی گئی اس جدید عمارت کو سنہ 2000 میں لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا۔

ٹریفرڈ کاؤنسل کے سربراہ سیان آنسٹی کا کہنا ہے کہ گذشتہ آٹھ سالوں سے انھوں نے اس گھر میں کسی کو رہتے ہوئے نہیں دیکھا۔

کاؤنسل اسے خطرناک جائیداد قرار دے رہی ہے تاہم اس عمارت کو گرا دینا ناممکن ثابت ہوا۔

سیان آنسٹی کہتے ہیں کہ یہ سفارتی عمارت ہے۔ اس لیے ایک عام جائیداد کی طرح اسے خریدینے کا کوئی آپشن نہیں۔

Image caption تاریخی انداز میں بنائی گئی اس جدید عمارت کو سنہ 2000 میں لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا

پیرش کاؤنسل کے پال لارڈ کہتے ہیں کہ وہ اس عمارت سے گھاس کاٹنے اور درختوں کی کانٹ چھانٹ ایک کسان سے کرواتے تھے۔

مگر ان کا کہنا ہے کہ اب صرف جو کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کو گرا دیا جائے تاکہ زمین کو برابر کر کے گھر کو دوبارہ بنایا جائے۔

ٹریفرڈ کاؤنسل کے سربراہ سیان آنسٹی کہتے ہیں کہ ’ہمارا موقف اسے محفوظ رکھنے اور لوگوں کی رسائی سے باہر رکھنے اور پھر سفارتی حل کے لیے کوششیں کرنے کا ہی رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ سفارتی حل تلاش کرنا آسان نہیں کیونکہ اس سلسلے میں مذاکرات عالمی حالات و واقعات کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔

برنک کہتے ہیں کہ الٹرنکم میں موجود یہ عمارت گذشتہ دس سال سے ایران کی ترجیح نہیں رہی۔

کاؤنسل کی قانونی ٹیم وزارتِ خارجہ سے مذاکرات کی کوششیں کر رہی ہے تاہم ٹریفرڈ اور تہران کے درمیان بات چیت سست روی کا شکار ہے۔

Image caption لندن میں ایران کا سفارت خانہ اگست میں کھلا تھا اور یہ افواہیں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں کہ یہ خالی گھر بھی جلد ہی فروخت ہو جائے گا

رپورٹوں کے مطابق سنہ 2011 تک یہ توقع تھی کہ کوئی بریک تھرو ہو جائے گا اور ایرانی سفارت خانے کے اہلکار لندن سے ٹریفرڈ گئے تھے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والی کشیدگی کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

برطانیہ کی جانب سے ایران پر مزید پابندیوں کی حمایت کے باعث سینکڑوں افراد نے تہران میں برطانیہ کے سفارتخانے پر حملہ کیا، جس کے بعد برطانوی سفارتکاروں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔

اس کے بعد سے اب تک کاؤنسل اس کی حفاظت کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

جان کاسٹیلو ڈنہم کے شراب خانے کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال یہ عمارت مزید خستہ حال دکھائی دیتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ جب اس عمارت کے قریب سے گزرتے ہیں تو شرم محسوس کرتے ہیں کہ اتنے اچھے گھر کی مرمت نہیں ہو سکتی۔

ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے معاہدے کے بعد ایران کے صدر حسن روحانی سے اپنے بیان میں کہا کہ اس سے دنیا کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

اینسٹی سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اچھا موقع ہے کہ اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے۔

لندن میں ایران کا سفارت خانہ اگست میں کھلا تھا اور یہ افواہیں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں کہ یہ خالی گھر بھی جلد ہی فروخت ہو جائے گا۔

پراپرٹی ڈیلر اینتھنی جیونز کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت ہی پسندیدہ مقام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی سڑک پر بکنے والی دیگر پراپرٹیز کی قیمت لاکھوں پاؤنڈز میں ہے۔

لیکن افواہوں کے برعکس دوسری جانب ٹریفرڈ کاؤنسل کا کہنا ہے کہ وہ بات چیت دوبارہ شروع کر رہے ہیں اور اب بھی پرامید ہیں۔

اسی بارے میں