تارکینِ وطن کا بحران: انگیلا میرکل کا ’مستقبل‘ پر نظر رکھنے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جرمن چانسلر کا خطاب جمعرات کی شب نشر کیا جائے گا

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نئے سال کی آمد پر اپنے خطاب میں جرمنی کے عوام سے مطالبہ کریں گی کہ وہ بڑی تعداد میں آنے والے تارکین وطن کو مستقبل کے موقعے کے طور پر دیکھیں۔

غیرملکیوں سے بیزاری کا اظہار کرنے والے گروہوں کی حمایت کے خلاف انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اہم ہے کہ ہم اپنے آپ کو منقسم نہ ہونے دیں۔‘

’یورپی یونین نہ پہلے تیار تھی، نہ اب تک ہے‘

’یورپ جانے والے تارکین وطن کی واپسی پر مذاکرات کامیاب‘

یورپ کو 2017 تک 30 لاکھ مہاجرین کا سامنا

جرمنی نے اس سال پناہ کے متلاشی دس لاکھ سے زائد افراد کو اپنے ملک میں جگہ دی ہے، یہ تعداد کسی بھی یورپی ملک میں تارکین وطن کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے یورپ کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انتونیو گیتریس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یورپی یونین پناہ گزینوں کے آمد کے بارے میں ’بالکل تیار نہیں‘ تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سمندر کے راستے یورپ آنے والوں کی بڑی تعداد کی منزل جرمنی تھی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے دس لاکھ سے زائد پناہ گزیں اور تارکین وطن سمندر کے راستے یورپ میں داخل ہوئے ہیں، جن میں سے نصف کا تعلق شام سے ہے۔

سمندر کے راستے یورپ آنے والوں کی بڑی تعداد کی منزل جرمنی تھی جبکہ بلقانی ریاستوں کے راستے سے آنے والوں کی بڑی تعداد بھی جرمنی پہنچی ہے۔

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کا بیان جمعرات کو نشر کیا جائے گا۔ انھوں نے تسلیم کیا ہے گذشتہ سال کڑا امتحان ثابت ہوا ہے لیکن انھوں نے اپنا پیغام دہرایا جو وہ پہلے بھی کئی مواقع پر کہہ چکی ہیں: ’ہم ایسا کر سکتے ہیں۔‘

بدھ کو جاری ہونے والے ان کے خطاب کی تحریر کے مطابق انھوں نے خبردار کیا کہ نئے آنے والوں کے انضمام کے لیے ’وقت، ہمت اور رقم‘ درکار ہو گی۔

’مجھے یقین ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد اور انضمام کی جو بھاری ذمہ داری ہے ہم آج وہ صحیح انداز میں نبھا سکتے ہیں، پھر کل یہ ہمارے لیے ایک موقع کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔‘

چانسلر میرکل نے جرمنی میں بڑی تعداد میں ’اسلامائزیشن مخالف‘ جلوسوں کا انعقاد کرنے والی تنظیم پیگیڈا کا خاص طور پر ذکر تو نہیں کیا تاہم انھوں نے جرمن قوم سے مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کی پیروی نہ کریں ’جو سردمہر ہیں یا جن کے دلوں میں نفرت ہے، اور جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صرف وہی جرمن ہیں اور دوسروں کے ساتھ امتیاز برتنا چاہتے ہیں۔‘

Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے دس لاکھ سے زائد پناہ گزیں اور تارکین وطن سمندر کے راستے یورپ میں داخل ہوئے

تارکین وطن کے بحران کے باعث یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بھی دیکھی گئی، چند ممالک نے پاسپورٹ کے بغیر ایک دوسرے کے ملک میں سفر کرنے کے اصول کے باوجود عارضی طور پر سرحدی پابندیاں متعارف کروائی ہیں۔

یورپی یونین کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسٹر گیتریس کا کہنا تھا کہ یورپ میں ایسی تقسیم کا مطلب ہے کہ ممالک اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

خیال رہے کہ انتونیو گیتریس اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کا عہدہ دس سال کے بعد چھوڑ رہے ہیں۔

’پہلی بار، بڑی تعداد میں، مہاجرین اور دیگر تارکین وطن یورپ آئے، اور یورپ اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔ وہ نہ صرف اس وقت تیار نہیں تھا بلکہ آج بھی تیار نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں