’طالبات کی رہائی کے لیے بوکوحرام سے بات چیت پر تیار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر محمدو نے کہا کہ حکومت کے پاس ان مغوی لڑکیوں کے ٹھکانے یا اُن کی صحت سے متعلق کوئی تازہ معلومات نہیں ہیں

افریقی ملک نائجیریا کے صدر محمدو بوہاری کا کہنا ہے کہ وہ بوکوحرام کے قبضے میں موجود 200 طالبات کی رہائی کے لیے شدت پسند تنظیم سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

محمدو بوہاری کا کہنا ہے کہ اگر بوکوحرام کی قابلِ اعتماد قیادت کی نشاندہی کی جا سکتی ہے تو وہ بنا کسی پیشگی شرائط کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

نائجیریا میں خواتین کے خودکش حملے، 50 ہلاک

فوج بوکوحرام کو شکست دینے کے قریب

بوکوحرام نے ان لڑکیوں کو اپریل سنہ 2014 میں ملک کے شمال مشرقی شہر چیبوک سے اغوا کیا تھا۔

صدر محمدو نے کہا کہ حکومت کے پاس ان مغوی لڑکیوں کے ٹھکانے یا اُن کی صحت سے متعلق کوئی تازہ معلومات نہیں ہیں۔

ان لڑکیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کی گذشتہ کوششیں مبینہ طور پر ناکام ہوگئی تھیں کیوں کہ حکام اس شدت پسند گروہ کے غیرمتعلقہ افراد سے بات چیت کر رہے تھ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مغوی طالبات کی رہائی کے لیے عالمی سطح پر مہم چلائی گئی تھی

محمدو بوہاری کے مطابق ’اگر بوکوحرام کے کسی قابلِ اعتماد رہنما کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جو ہمیں یہ بتا سکے کہ وہ لڑکیاں کہاں ہیں تو ہم بغیر پیشگی شرائط کے اُن سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘

حالیہ مہینوں کے دوران بوکوحرام کی تحویل میں موجود سینکڑوں قیدیوں کو آزاد کرایا گیا ہے تاہم اِن میں کوئی بھی مغوی طالبہ شامل نہیں تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے صدر بوہاری نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا تھا کہ نائیجیریا کی حکومتی افواج ’شدت پسندوں کے خلاف جنگ تکنیکی سطح پر جیت چکی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فوج اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کو پوری طرح سے شکست دینے کے بہت قریب ہے اور بوکوحرام میں فوج پر یا اہم آبادی والے علاقوں میں روایتی حملے کرنے کی صلاحیت نہیں بچی ہے۔

بغاوت کے گذشتہ چھ سال میں شمال مشرقی نائجیریا کے علاقوں میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے تباہی مچا رکھی ہے اور صدر نے فوج کو رواں ماہ کے آخر تک بوکو حرام کو پوری طرح سے شکست دینے کی مہلت دی تھی۔

اس تشدد میں اب تک تقریباً 17 ہزار افراد ہلاک اور 20 لاکھ کے قریب بےگھر ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں