لِتھیوینیا میں مسجدوں کی بقا

Image caption اس پیازی گنبد کی چوٹی پر ایک چھوٹا سا ہلال ایستادہ ہے

یہ شاید اُس طرح کی جگہ نہ ہو جہاں آپ کسی مسجد کی موجودگی کی توقع کر رہے ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمان 600 سال سے زائد عرصے سے لِتھیوینیا کے جنگلات اور جھیلوں کے درمیان رہ رہے ہیں۔

اس سے قرونِ وسطیٰ کے دوران یہاں موجود رواداری اور برداشت کا اظہار ہوتا ہے، حالانکہ اس دور میں یورپ کے دیگر حصوں میں شدید مذہبی کشمکش جاری تھی۔

پہلی نظر میں یہ مربع شکل کی چوبی عمارت بلقان کے دیہات میں نظر آنے والی ہزاروں دوسری عمارتوں کی طرح دکھائی دیتی ہے، جن میں صاف لکڑی کی سلیٹیں، لکڑی کے فریم والی کھڑکیاں اور ٹین کی بنی چھتیں ہوتی ہے۔

لیکن اس عمارت کی چھت کی چوٹی پر ایک چھوٹا سا شیشے کا مینار ہے جس کے سرے پر ایک پیازی گنبد ہے، جیسے آپ نے شاید مقامی گِرجاؤں میں دیکھے ہوں۔ پھر اُس پیازی گنبد کی چوٹی پر ایک چھوٹا سا ہلال ایستادہ ہے۔

اس سے زیادہ یورپی انداز کی مسجد شاید ہی کہیں دیکھنے کو ملے۔

Image caption ایک خیال ہے کہ 12 سال بعد جرمن نژاد یہودی جنگجو پولینڈ اور لِتھیواینیا کے ساتھ جنگ کے لیے گئے تھے

کیٹیوریسڈیسمٹ ٹوٹوریوگاؤں کے نام میں بھی ایک اشارہ پایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے ’40 چالیس تاتاری،‘ اور اس سے مُراد تاتاری خاندانوں کی تعداد ہے جو یہاں لتھیوینیائی فرمانروا وائیتوتس کی دعوت پر 600 سال سے زائد عرصے سے آباد ہیں۔

یورپ کے قبل از عیسایت مذہب کی جڑیں رکھنے والے اس علاقے کو اپنے مغرب میں واقع جارحیت پسند جنگجو میسحی ہمسائیوں سے مسلسل خطرات کا سامنا رہا۔

اسی لیے سنہ 1398 میں بحیرہ اسود کے قریب ایک فوجی مہم سے واپسی پر وائیتوتس اپنے علاقے کے دفاع کے لیے ایک بڑی تعداد میں مسلم کریمیائی تاتاری اور یہودیوں کے ایک چھوٹے گروہ کو اپنے ساتھ لے آئے۔

ایک خیال ہے کہ 12 سال بعد جرمن نژاد یہودی جنگجو پولینڈ اور لِتھیوینیا کے ساتھ جنگ کے لیے گئے تھے اور تاتاریوں اور یہودیوں نے وائیتوتس کے ساتھ مل کر گرونوالڈ (وارسوا اورگڈینسک کا درمیانی علاقہ) کی جنگ لڑی جس میں صلیبیوں کو بہت بُری شکست ہوئی تھی۔

اُن کی خدمات کے انعام کے طور پر وائیتوتس نے مسلمانوں کو رہنے کے لیے زمین اور مکمل مذہبی آزادی دی۔ یہ وہی وقت تھا جب سپین سے یہودیوں اور یورپ کی قدیم ترین مسلمان آبادی کو بےدخل کیا جا رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption وائیتوتس نے مسلمانوں کو رہنے کے لیے زمین اور مکمل مذہبی آزادی دی

آج کیٹیوریسڈیسمٹ ٹوٹوریو میں رہنے والے تقریباً 120 افراد تاتاری ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر کریمیائیوں کی نسل سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

روسی ادب کی 75 سالہ سابق استاد فاطمہ سٹنٹروکووا کہتی ہیں: ’ہم وائیتوتس کی وجہ سے یہاں ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہم کریمیائی تاتاری ہیں۔‘

لِتھیواینیا کی تاتاری آبادی بڑھتی رہی اور جنوب اور مغرب تک پھیل گئی۔ ایک وقت تھا جب یہاں ممکنہ طور پر ویلنیس، بیلاروسی دارالحکومت منسک اور پولینڈ کے شہر بیالسٹاک کے درمیان موجود دیہاتوں میں درجنوں، بلکہ ممکنہ طور پر سینکڑوں تاتاری مساجد تھیں۔

Image caption سب سے مشکل دور سوویت دور تھا۔ تمام مذہبی رہنما اور کسی بھی علم کے حامل لوگوں کو یا تو ہلاک کر دیا گیا یا پھر سائبیریا میں جلا وطن کر دیا گیا

پہلی جنگِ عظیم کے دور میں بھی لِتھیوینیا میں 25 مساجد موجود تھیں۔ لیکن اب کیٹیوریسڈیسمٹ ٹوٹوریواور ریزے اور نمیزس کے قریبی دیہات میں صرف تین مساجد ہیں۔ چار دیگر مسجدیں پولینڈ کی دو بستیوں اور بیلاروس کے شہروں میں موجود ہیں۔

18 ویں صدی کے اوائل دور میں سب سے پہلے تاتاری زبان غائب ہوئی۔

وائیتوتس کے ساتھ یہاں آنے والی کریمیائی نسل کے لِتھیوینیا کے مفتی اعظم رمضان یعقوب کے مطابق: ’سب سے مشکل دور سوویت دور تھا۔ تمام مذہبی رہنما اور کسی بھی علم کے حامل لوگوں کو یا تو ہلاک کر دیا گیا یا پھر سائبیریا میں جلا وطن کر دیا گیا۔ کتابیں اور آرکائیوز کو جلا دیا گیا، مساجد کو بند یا نذرِ آتش کر دیا گیا۔ سماجی میل جول روک دیا گیا، اور اسلام کو ممنوعہ قرار دے دیا گیا۔

یعقوب کی پرورش اس طرح ہوئی کہ وہ اسلام کے متعلق تقریباً کچھ نہیں جانتے تھے۔ انھیں اسلام کے متعلق آگاہی سوویت یونین کے زوال کے بعد اس وقت حاصل ہوئی جب مسلمان طالب علم ملک میں پہنچنا شروع ہوئے۔ انھوں نے فوری طور پر اُن کے ساتھ اپنا تعلق محسوس کیا اور اُن کی مدد سے اُنھیں لبنان اور لیبیا میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ لبنان کی کثیر ثقافتی فضا یورپی مسلمان آبادی کی رہنمائی کرنے کے لیے تربیت کی نہایت موزوں جگہ تھی۔

Image caption سوویت دور میں ہم نے اپنی مساجد کو گرنے نہیں دیا

کچھ نوجوان تاتاریوں میں مذہب میں دلچسپی کی بحالی کے باوجود اِن میں سے کوئی بھی مسجد پنجگانہ نماز کے لیے نہیں کھولی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ کیٹیوریسڈیسمٹ ٹوٹوریو میں بھی، جہاں آبادی کا ایک تہائی حصہ مسلمان تھا، مسجد کو صرف خاص مذہبی تہواروں کے مواقع پر ہی کھولا جاتا تھا۔

کیٹیوریسڈیسمٹ ٹوٹوریو میں فاطمہ پرانے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’سوویت دور میں ہم نے اپنی مساجد کو گرنے نہیں دیا۔ ہم خفیہ طور پر وہاں جایا کرتے تھے۔ امام اور سنہ 1940 کی آبادی نے اِن مساجد کو ہمارے بچوں کے لیے زندہ رکھا۔ ہمارے پاس بچ جانے والی چیزوں میں اب سب کچھ مساجد ہی ہیں۔‘

اسی بارے میں