امریکی شہری پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد

تصویر کے کاپی رائٹ non
Image caption لچمین اس سے پہلے 2006 میں ڈکیتی کے جرم میں پانچ سال کی جیل کاٹ چکا ہے اور جیل میں ہی وہ مبینہ طور پر انتہا پسندی سے متاثر ہوا تھا

امریکہ میں حکام نے ریاست نیویارک سے حراست میں لیے گئے شخص پر نئے سال کی تقریبات کے دوران حملہ کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے 25 سالہ ایمینوئل لچمن کا تعلق روچیسٹر کے علاقے سے ہے اور وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہمدرد اور حامی ہیں۔

امریکی حکام نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نئے سال کے آغاز کے موقع پر ایک مقامی ریستوران میں جمع ہونے والے عام شہریوں پر چاقو سے حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ملزم نے ایف بی آئی کو اپنے بارے میں مطلع کرنے والے شخص کو بتایا تھا کہ وہ اس حملے میں مشیٹی اور چاقو استعمال کرے گا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ایمینوئل لچمین نے کہا کہ ’میں جان لے لوں گا، مجھے اس میں کوئی مشکل درپیش نہیں۔‘

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنی ایک ویڈیو بھی بنائی ہے جس میں اس نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کا اعلان کیا ہے۔

ایمینوئل لچمین حکام کی نظروں میں اس وقت آئے تھے جب انھوں نے انٹرنیٹ پر دولتِ اسلامیہ کے حق میں بات کی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم لچمین کچھ عرصے قبل ہی مسلمان ہوا اور وہ ذہنی مریض بھی ہے۔

لچمین اس سے پہلے 2006 میں ڈکیتی کے جرم میں پانچ سال کی جیل کاٹ چکا ہے اور جیل میں ہی وہ مبینہ طور پر انتہا پسندی سے متاثر ہوا تھا۔

نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے کہا، ’ایمینوئل لچمین کی گرفتاری نے ہمیں عالمی دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں ایک بار پھر یاددہانی کروائی ہے۔ آج سکیورٹی ایجنسیوں نے بہترین کام کیا لیکن ہمیں بہت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے اور ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی چوکنا رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹائمز سکوائر میں نئے سال کا جشن منانے کے لیے ہزاروں افراد جمع ہوئے

یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے کہ جب نیویارک شہر میں نیا سال منانے کی تیاری سے متعلق پروگراموں کے پیش نظر انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

نیویارک کے مشہور ٹائمز سكوائر میں سکیورٹی کے لیے 6000 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی ہزاروں پولیس اہلکار نگرانی کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ نیویارک پر کسی حملے کے خطرے کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات تو نہیں ہیں لیکن حال ہی میں پہلے پیرس اور پھر كیليفورنيا میں حملوں کے بعد سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں