ترکی پر روسی پابندیوں کا اثر نظر آنے لگا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption استنبول کا گرینڈ بازار روسی اور دیگر ممالک کے گاہکوں سے بھرا ہوتا تھا

روس کی جانب سے ترکی پر لگنے والی پابندیوں سے اب ترکی کی سیاحت، تعمیراتی کمپنیاں اور اشیا خورد ونوش کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

گذشتہ نومبر میں شام اور ترکی کی سرحد پر ترکی کے ایف 16 طیارے کے روسی لڑاکا طیارے ایس یو 24 کو گرائے جانے کے واقع پر روس نے انتہائی غصے کا اظہار کیا تھا۔

’جہاز گرانا ترکی کا جارحانہ قدم تھا، روس بھاگنے والوں میں سے نہیں‘

روس کا ترکی پر اقتصادی پابندیوں کا اعلان

اس واقع کے بعد روس نے مندرجہ ذیل چیزوں پر پابندی عائد کر دی تھی:

  • ترکی سے پھلوں، سبزیوں، پولٹری اور نمک کی درآمدات
  • روسی افراد کو ترکی کے لیے خصوصی چھٹی پیکجوں کی فروخت
  • روس میں ترکی کی کمپنیوں کے ساتھ بغیر کسی خصوصی اجازت نامے کے تعمیراتی کام

روس میں رجسٹرڈ کمپنیوں میں کام کرنے والے ترکی کے شہریوں پر بھی اب پابندی عائد کر دی گئی ہے اور روس نے ترک سٹریم نامی منصوبے پر بھی کام روک دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایک نئی ’بلیک سی‘ پائپ لائن کے ذریعے ترکی برآمد کی جانے والی روسی گیس میں اضافہ کرنا تھا۔

ماہر معاشیات ایرہان اسلان اوغلو کا کہنا ہے کہ ’مختصر دورانیے کے لیے تو یہ پابندیاں ترک معیشت پر اثر انداز ہوں گی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ترکی سنبھل جائے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ترکی کو ہونے والا نقصان کم سے کم دس بلین ڈالر ہو سکتا ہے۔‘

روسی سیاحوں کے لیے سنہ 2014 میں ترکی کے بحیرۂ روم پر ریزوٹس چھٹیاں گزارنے کے لیے دوسرا سب سے پسندیدہ مقام تھا جہاں تقریباً 33 لاکھ سیاح جایا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی کے پھل اور سبزیوں کی روس میں فروخت پر پابندی ہے

اسلان اوغلو کے مطابق ترکی کو’روسی سیاحوں سے ملنے والے سالانہ 3.5 بلین ڈالرز کا نقصان ہوگا اور سالانہ تعمیراتی منصوبوں کی منسوخی کے باعث ہونے والا نقصان 4.5 بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا۔‘

تاہم ان کے خیال میں روس گیس کی برآمدات کو متاثر نہیں ہونے دے گا کیونکہ یہ ترکی کے ساتھ تجارت کا ایک اہم شعبہ ہے۔

ترکی سالانہ اپنی 55 فیصد قدرتی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس پر انحصار کرتا ہے۔

اسلان اوغلو کا کہنا ہےکہ ’اگر روس قدرتی گیس کو روکتا ہے یا اس میں تعطل آتا ہے تو پھر اس کے ترکی پر انتہائی سنجیدہ اثرات مرتب ہوں گے، لیکن مجھے اتنی بڑی تبدیلی کی امید نہیں ہے۔‘

استنبول سے قریب لالیلی علاقہ میں جو کپڑوں کی برآمدات کے لیے مشہور ہے، دوکاندار روسی طیارہ گرائے جانے کے بعد سے تجارت میں کمی کی شکایت کر رہے ہیں۔

ایک خاتون دوکاندار نائلہ سیبک کا کہنا ہے کہ ’اس وقت کام کرنا انتہائی مشکل ہے۔ زیادہ تر دوکانیں بند ہو چکی ہیں اور گاہک بالکل نہیں ہیں۔‘

لیدر جیکٹس کا کاروبار کرنے والے حسن ایرن کا کہنا ہے کہ ’کاروبار بالکل نہیں ہے کیونکہ میرے 80 فیصد گاہکوں کا تعلق روس سے ہے۔اگر کاروبار آئندہ دو ماہ کے دوران پھر سے بہتر نہیں ہوتا تو میں دیوالیہ ہو جاؤں گا۔‘

ترکی کی ٹیکسٹائل باقاعدہ طور پر روسی پابندیوں میں شامل تو نہیں ہے تاہم برآمد کنندگان کے خیال میں ان کی اشیا کی خرید و فروخت غیر رسمی پابندی کا شکار ہو رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ سارا معاملہ روسی لڑاکا طیارے کو مار گرانے کے بعد شروع ہوا تھا

ترکی کے وزیر زراعت کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ترکی کی اشیا خورد و نوش پر پابندی کا مطلب ہے کہ 764 ملین ڈالر کا نقصان۔

فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن کے نائب سربراہ موہیتن باران کا کہنا ہے کہ ’آغاز میں تو ہمارے شعبے میں اس پابندی پر دھچکا لگا تھا لیکن بعد میں ہم نے سب سنبھال لیا۔‘

اس سب کے علاوہ ان پابندیوں کا ثقافتی اثر بھی ہے اور اس صورتحال سے روسی زبان اور ادب کی تعلیم حاصل کرنے والی ترک طلبا کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

ان طلبا میں سے سینکڑوں نے ایک آن لائن پیٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں روسی صدر ولادی میر پوتن اور ترکی کے صدر رجب طیب اردو غان سے کہا گیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو ختم کریں۔

گائے کورل جو حال ہی میں گریجویٹ ہوئی ہیں کو امید تھی کہ انھیں روس میں نوکری مل جائے گی لیکن اب انھوں نے اپنے تمام تر منصوبے ختم کر دیے ہیں۔

ایک اور طالب علم کاگلہ کرسن کا کہنا ہے کہ ’ترکی اور روس ایک جوڑے کی طرح ہیں جو طلاق چاہتا ہے اور ہم ان کے بچے ہیں۔اگر یہ دونوں الگ ہو جاتے ہیں تو ہمیں بہت افسوس ہوگا۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے صدور ہمیں نظر انداز نہیں کریں گے۔‘

اسی بارے میں