دومہ آتشزنی: دو اسرائیلیوں پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سعد الدوابشہ کے بھائی نصر نے اسرائیلی حکام کی جانب سے اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم پر یقین کرنے سے انکار کیا ہے

مقبوضہ غرب اردن میں ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو آگ لگانے کے معاملے میں اسرائیلی حکام نے دو اسرائیلی باشندوں پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

آتشزنی کا یہ واقعہ 31 جولائی کو نابلس کے قریب دومہ نامی گاؤں میں پیش آیا تھا جس میں سعد الدوابشہ نامی شخص کے مکان کو رات گئے آگ لگائی گئی تھی اور مکان کے قریب عبرانی زبان میں ’انتقام‘ کا لفظ بھی تحریر کیا گیا تھا۔

اسرائیل میں استغاثہ نے 21 سالہ امیرام بن اولیل پر اس معاملے میں قتلِ عمد اور ان کے ایک ساتھی پر قتل میں ساتھ دینے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی ہے۔

ان کے علاوہ کم از کم دو افراد پر فلسطینیوں پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

آتشزنی کے واقعے میں سعد کا ڈیڑھ سالہ بچہ علی سعد جل کر ہلاک ہو گیا تھا جبکہ وہ خود، ان کی اہلیہ اور ایک بیٹا شدید زخمی ہوئے تھے۔

بعدازاں سعد نے آٹھ اگست اور ان کی اہلیہ ریہام نے بھی چند دن بعد دم توڑ دیا تھا۔

اس واقعے کی فلسطین کے علاوہ عالمی سطح پر بھی مذمت کی گئی تھی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینی بچے کے قاتلوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آتشزنی کے اس واقعے کی فلسطین کے علاوہ عالمی سطح پر بھی مذمت کی گئی تھی

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے اس حملے کو دہشت گردی کی واردات قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی میں کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔

تاہم سعد الدوابشہ کے بھائی نصر نے اسرائیلی حکام کی جانب سے اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم پر یقین کرنے سے انکار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اسرائیلی عدالتوں پر یقین نہیں۔ اگر عالمی دباؤ نہ ہوتا تو یہ تو تحقیقات ہی شروع نہ کرتے۔‘

اس معاملے کی تحقیق کرنے والوں کی توجہ کا مرکز مقبوضہ غربِ اردن کے نوجوان یہودی آبادکار تھے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ بن اولیل نے یہ حملہ ایک اسرائیلی آباد کار کی ہلاکت کے خلاف انتقام کے طور پر کیا۔

تاہم اس حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں زیرِ حراست افراد میں سے چند کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے موکلین پر تشدد کر کے اعترافِ جرم کروایا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں