ایران و سعودی عرب ’خطرناک ترین موڑ‘ پر

Image caption ایران اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی کشیدگی سے شام و یمن میں امن کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات جس قدر خراب اب ہوئے ہیں اتنے گزشتہ تیس برسوں میں نہیں ہوئے۔

سعودی مذہبی رہنما شیخ نمر النمر کی سزائے موت سے شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور پھر تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کیے جانے اور ریاض سے ایرانی سفارتکاروں کی بے دخلی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

خطے میں سیاسی اور مذہبی اثر ورسوخ کی دوڑ میں ریاض اور تہران کے درمیان جاری مقابلہ بازی کے اثرات خلیج کے پرسکون پانیوں سے کہیں دور تک پھیل سکتے ہیں اور شاید ہی مشرق وسطیٰ کا کوئی ملک ایسا ہو جو ان دونوں کی کشیدگی سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکے۔

شاید اس کشیدگی کا سب سے بڑا اور فوری نتیجہ یہ نکلے کہ شام اور یمن میں سفارتکاری کے ذریعے کسی تصفیے کے امکانات معدوم ہو جائیں۔ خاص طور پر اب جبکہ بین الاقوامی سطح پر جاری مذاکرات سے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ شام اور یمن میں مسلح کارروائیاں ختم ہونے جا رہی ہیں اور وہاں امن کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، ایران اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی کشیدگی سے ان امیدوں پر اوس پڑ گئی ہے۔

اضطراب کے طویل سال

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی اور دُوری اتنی ہی خطرناک ہے جتنی سنہ 1980 کی دہائی میں ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں سنہ 1988 اور پھر سنہ 1991 میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات معطل ہو گئے تھے۔

یہ وہ وقت تھا جب سنہ 1979 کے ایرانی انقلاب کو تقریباً دس برس ہو چکے تھے اور ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سالہ جنگ بھی جاری تھی۔

اس جنگ میں سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک عراق کے سابق صدر صدام حسین کی حمایت میں کھڑے تھے اور ایران بھی اِن ممالک کے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ انہی دنوں میں سعودی عرب نے بھی بقول اس کے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر ایک ایرانی جنگی جہاز مار گرایا تھا۔

Image caption نقلاب کے بعد کے سے سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کا الزام رہا ہے کہ ایران شیعہ عسکریت پسندی کو ہوا دے رہا ہے۔

انقلاب کے بعد کے برسوں میں سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی حکومتیں مسلسل الزام لگاتی رہی ہیں کہ ایران خطے میں شیعہ عسکریت پسندی کو ہوا دے رہا ہے۔ اِن ممالک کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ سنہ 1981 میں بحرین میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش اور اور چار سال بعد کویت کے امیر کے قتل کی سازش کے پیچھے ایران کا ہی ہاتھ تھا۔

اس دوران مئی 1987 میں دہشتگرد گروہ ’حزب اللہ الحجاز‘ کی بنیاد رکھی گئی جسے ایران کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس گروہ کی تشکیل لبنان کی حزب اللہ کی طرز پر کی گئی اور ملاؤں کی زیر قیادت کام کرنے والے اس نئے گروہ کا مقصد سعودی عرب کے اندر دہشتگردی کی کارروائیاں کرنا تھا۔

حزب اللہ الحجاز نے آغاز سے ہی کئی اشتعال انگیز بیانات جاری کیے جس میں نہ صرف سعودی شاہی خاندان کو دھمکیاں دیں گئیں بلکہ سنہ 1980 کی دہائی میں سعودی عرب میں کئی مہلک حملے کیے گئے جس کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

شدید بد اعتمادی

اگرچہ حالیہ کشیدگی میں ابھی تک دونوں ملکوں میں براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا ہے، تاہم یہ کشیدگی اتنی ہی خطرناک دکھائی دیتی ہے جتنی سنہ 1980 کی دہائی میں تھی۔ اس مماثلت کی تین وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ تو کئی سالوں سے جاری فرقہ وارانہ سیاست ہے جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ شیعہ سنی خطوط پر تقسیم ہو چکا ہے اور ایران اور خلیج فارس کے دوسرے کنارے پر واقع اس کے پڑوسیوں کے درمیان بد اعتمادی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

اس فرقہ واریت سے بھرپور فضا میں دونوں انتہاؤں کے درمیان کھڑی ہوئی اعتدال پسندی کی قوتیں بہت کمزور ہو چکی ہیں اور اب خطے کے معاملات ان لوگوں کے ہاتھوں میں آ چکے ہیں جو مخالف فریق کی ایک بھی سننے کو تیار نہیں ہیں۔

اس مماثلت کی دوسری توجیح یہ ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران خلیجی ریاستیں مسلسل ایک ایسی خارجہ پالیسی پر کاربند ہیں جس میں خاصی سختی آ چکی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں سمجھتی ہیں کہ ایران علاقائی تنازعوں میں مسلسل اپنی ’ٹانگ اڑا رہا ہے‘ اور دوسرا یہ کہ ان ریاستوں کو شک ہے کہ مشرق وسطیٰ کے معاملے میں اوباما انتظامیہ کی نیت کوئی ٹھیک نہیں۔

Image caption یمن اور شام میں قیام امن کے مذاکرات کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں اکثریت بنیادی طور پر تہران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتی بلکہ ان کے لیے بڑا خطرہ ایران کی جانب سے حزب اللہ جیسے شدت پسند گروہوں کی حمایت ہے۔ حالیہ عرصے میں یمن میں حوثی باغیوں کی ایرانی حمایت کو بھی یہ ریاستیں ایک خطرے سے تعبیر کرتی ہیں۔

گزشتہ ماہ یمن کے خلاف سعودی قیادت میں حملے کرنے والے اتحاد اور دہشتگردی کے خلاف قائم ہونے والے کثیر الملکی اتحاد، دونوں نے جو اعلانات کیے تھے ان سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ خطے کی سلامتی کے معاملے میں سعودی حکومت کسی قسم کی مفاہمت کو خاطر میں نہیں لانا چاہتا۔

’ماتم کی گھڑی‘

موجودہ کشیدگی اور سنہ 1980 کے حالات کے درمیان ممثالت کی تیسری اور آخری وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر سعودی عرب اور ایران کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے ہیں۔ اس قطع تعلقی سے واضح اشارہ یہی ملتا ہے کہ وہ علاقائی طاقتیں جو شام اور یمن میں جاری جنگوں کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہی تھیں، وہ اپنا بوریا بسترا لپیٹ لیں۔

شیخ نمر المنر کی سزائے موت پر ہونے والے شور و غوغے میں جو بات دب کر رہ گئی ہے وہ یہ اعلان ہے کہ 15 دسمبر کو یمن میں جنگ بندی کا جو معاہدہ ہوا تھا وہ عملی طور پر دم توڑ چکا ہے۔

ابھی تک نہ تو اِس معاہدے کے کوئی اثرات ظاہر ہوئے تھے اور نہ ہی اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتممام ہونے والے مذاکرات کا اگلا دور 14 جنوری کو ہونا تھا، لیکن اگر ایران اور سعودی عرب دونوں یمن میں اپنی مداخلت میں اضافہ کر دیتے ہیں تو امکانات یہی ہیں کہ مذاکرات کا یہ دور نہیں ہوگا۔

اور شاید یہی حال شام میں قیام امن کے لیے جاری مذاکرات کا ہو جن کا اگلا دور جنوری کے آخری دنوں میں جنیوا میں متوقع ہے۔ لگتا ہے کہ کئی ہفتوں سے پس پردہ جاری وہ کوششیں اب رائیگان جائیں گی جن کا مقصد شام میں برسر پیکار متحارب گروہوں اور شامی حکومت کو آہستہ آہستہ اس مقام تک لانا تھا جہاں یہ ہھتیار پھینک دیتے اور بحالی امن کی بات کرتے۔

کرسٹین کوئٹس الرچسن امریکہ کی رائس یونیورسٹی اور برطانیہ کے تھنک ٹینک چیٹہم ہاؤس سے منسلک ہیں اور مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ہیں۔

اسی بارے میں