سال نو کے موقع پر خواتین پر حملوں سے جرمنی میں خوف

Image caption جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں بھی خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے

جرمنی کے شہر کولون کی میئر نے نئے سال کی شام کو مردوں کی جانب سے تقریباً 80 خواتین پر مبینہ جنسی حملوں اور لوٹ مار کی اطلاعات کے بعد پولیس کو اِس سنگین مسئلے پر گفتگو کے لیے طلب کر لیا ہے۔

شہر کے مرکزی ریلوے سٹیشن پر خواتین پر حملوں کے واقعات سے جرمنی میں خوف کی فضا ہے۔ اِن واقعات میں نشے میں مدہوش تقریباً 1,000 کے قریب نوجوان افراد ملوث ہیں۔

شہر کے پولیس چیف ولف گینگ نے ’اِن واقعات کو جرائم کی ایک نئی سمت‘ قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس میں ملوث افراد عرب یا شمالی افریقہ کے باشندوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں بھی خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق کولون میں شہر کے سب سے مشہور گرجا گھر کے قریب ہونے والے حملے سب سے زیادہ سنگین ہیں۔ اِن واقعات میں کم سے ایک خاتون کے ساتھ ریپ اور دیگر کو جسمانی طور پر حراساں کیا گیا ہے۔

پولیس کو زیادہ تر ڈکیتیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایک خاتون رضاکار پولیس اہلکار بھی جنسی طور پر حراساں ہونے والوں میں شامل ہیں۔

کولون میں چار سے دس فروری تک کارنیول کی تقریبات منعقد ہوں گی جس میں ممکنہ طور پر ہزاروں افراد خوشیاں منانے سڑکوں پر نکل سکتے ہیں جیسا کہ نئے سال کی شام پر نکلتے ہیں۔

پولیس چیف کا کہنا ہے ’کارنیول کی تقریبات کے باعث حملہ آوروں کا رویہ میرے لیے تشویش کا باعث ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق نئے سال کی شام کو رش کے باعث مرکزی ریلوے سٹیشن کے باہر پولیس کو تعینات کیا گیا تھا لیکن وہ خواتین پر ہونے والے متعدد حملوں کا پتہ لگانے میں ناکام رہی۔ اِس بارے میں بھی خدشات ہیں کہ متعدد خواتین نے حملوں کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا۔

’خوفناک‘ حملے

Image caption پولیس موبائل فون اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے بھی مدد لے رہی ہے

کولون کی میئر کا کہنا ہے کہ خواتین پر کیے جانے والے حملے ’خوفناک‘ تھے۔ اُنھوں نے کہا ’ہم اِس کی اجازت نہیں دیں گے کہ یہ لاقانونیت والا علاقہ بن جائے۔‘

جرمنی کے وزیر انصاف نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’ہم خواتین پر اِس قسم کے گھناؤنے حملے برداشت نہیں کریں گے۔تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘

کولون کی خبر رساں ویب سائٹ کے مطابق مشتبہ ملزمان مرکزی ریلوے سٹیشن کے اندر اور اطرف میں اکثر جیب کاٹتے ہیں اور وہ پہلے سے ہی پولیس کے بارے میں جانتے تھے۔

پولیس جمعرات کی شام کو خواتین کو نشانہ بنانے والے افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے اِن لوگوں نے سوشل میڈیا کا استعمال کرکے اِن حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

پولیس موبائل فون اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے بھی مدد لے رہی ہے۔

ہیمبرگ میں کئی خواتین نے پولیس کو بتایا کہ نئے سال کی شام مردوں کے گروہوں نے اِنھیں جنسی طور پر حراساں کیا اور لوٹا۔

نئے سال کی شام کو کولون کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے باہر تعینات پولیس اہلکار نے شہر کی خبر رساں ویب سائٹ کو بتایا کہ اُنھوں نے آٹھ افراد کو حراست میں لیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا ’تمام افراد پناہ گزین تھے جو اپنے ہمراہ اپنے رہائشی کاغذات کی نقل لے کر گھوم رہے تھے۔‘

تاہم ابھی تک اِس واقعے میں کسی پناہ گزین کے ملوث ہونے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

جرمنی کے این ٹی وی نیوز کا کہنا ہے کہ کولون کی پولیس ملک کے دیگر حصوں سے نفری طلب کرنے اور دوربین کے لینس والے مزید خفیہ کیمرے نصب کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

اکتوبر میں کولونیاں کی میئر ہینریٹا ریکا کو میئر کے انتخابات سے ایک روز قبل مہم کے دوران گردن میں چھرا مارا گیا تھا۔ حکام کے مطابق مشتبہ حملہ آور جرمن شہری تھا، جو جرمنی کی امیگریشن پالیسی سے نالاں تھا۔

اسی بارے میں