ترکی کے ساحل پر کم از کم 34 تارکین وطن کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ سال بحیرہ روم کے راستےیورپ پہنچنے کی کوشش میں 3771 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے

ترکی کے ساحل سے کم از کم 34 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ یہ لاشیں ان تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی ہیں جو سمندر کے راستے یونان پہنچنے کی کوشش میں حادثے کا شکار ہوئے۔

ان کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ ان کی کشتیاں یونان کے جزیرے لیسبوس پہنچنے کی کوشش میں الٹ گئی تھیں۔

یورپ کو 2017 تک 30 لاکھ مہاجرین کا سامنا

ترکی اور یورپ کا خطرناک معاہدہ

’دس لاکھ سے زائد تارکینِ وطن سمندر عبور کر کے یورپ آئے‘

یہ لاشیں ترکی کے ایوالک اور دکیلی کے ساحلوں سے ملی ہیں۔ جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2015 میں دس لاکھ سے زائد افراد بحیرہ روم کے راستےیورپ پہنچے ہیں اور ان میں بڑی تعداد نے ترکی سے یورپ کا سفر کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ سال بحیرہ روم کے راستےیورپ پہنچنے کی کوشش میں 3771 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق بحیرہ ایجیئن پار کرنے والے تارکین وطن ربڑ کی کشتیوں میں سوار تھے۔

خبررساں ادارے دوغان کے مطابق کوسٹ گارڈز نے سمندر میں ممکنہ طور پر بچ جانے والے افراد کی تلاش کی اور آٹھ افراد کو بچا لیا۔

سکیورٹی حکام نے کچھ لاشوں کو پانی سے نکالا جبکہ دیگر ساحل پر دیکھی گئی ہیں، تمام افراد نے لائف جیکٹس پہن رکھی ہوئی تھیں۔ ان میں سے کچھ واضح طور پر بچے تھے۔

پولیس نے ترک میڈیا کو بتایا کہ 24 لاشیں ایوالک کے ساحل سے اور دس دکیلی کے قریب سے ملی ہیں۔

تاحال ہلاک ہونے والوں کی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی تاہم مقامی گورنر نامل کمال نازلی حریت کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق شام، عراق اور الجزائر سے تھا۔

اسی بارے میں