جرمنی میں سال نو پر خواتین پر حملوں کے خلاف مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption تین سو سے زیادہ خواتین نے مردوں کے چند گروہ کی جانب سے ہونےوالے حملے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے

جرمنی کے شہر کولون میں سینکڑوں افراد نے سالِ نو کے جشن کی شام خواتین پر جنسی حملوں اور چوری کی وارداتوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

مظاہرین میں سے بعض افراد نے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل سے کارروائی کا مطالبہ کرنے کے لیے بینر اُٹھا رکھے تھے۔

انگیلا میرکل نے اِن ’قابلِ نفرت حملوں‘ پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔

عینی شاہدین اور پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد عرب یا شمالی افریقی ممالک کے باشندوں سے مماثلت رکھتے تھے۔

نشے میں دُھت اور جارحیت پسند نوجوانوں کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر کیے جانے والے حملوں نے ملک کی فضا کو خوفزدہ کردیا ہے۔

جرمنی میں پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے حوالے سے شدید بحث چھڑی ہوئی ہے جو گذشتہ سال ریکارڈ تعداد میں جرمنی آئے اور ان میں بہت سے شام کی جنگ سے بھاگ کر آئے ہیں۔

Image caption جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں بھی خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے

تاہم کولون کی میئر ہینریٹ نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ حملہ آوروں کے متعلق حتمی نتائج نہ نکالیں کیوں کہ اُن میں سے کسی کو بھی تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔

جمعرات کی رات کولون کے مرکزی ریلوے سٹیشن پر بعض گروہوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے خلاف خواتین کی جانب سے پولیس میں کم از کم 90 شکایات درج کرائی گئی ہیں۔

کولون میں مبینہ طور پر کم از کم ایک خاتون کو ریپ کیا گیا اور بہت سی خواتین کو جنسی ہراساں کیا گیا جن میں ایک رضاکار خاتون پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ہیمبرگ اور سٹوٹگرٹ میں بھی خواتین کو اسی طرح کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا لیکن یہ چھوٹے پیمانے پر تھے۔

منگل کی شام 300 سے زائد افراد نے جن میں زیادہ تر خواتین تھیں، جائے حملہ کے قریب اِن پُرتشدد واقعات کے خلاف مظاہرہ کیا۔

بعض پلے کارڈز پر یہ تحریریں درج تھیں: ’مسز میرکل! آپ کہاں ہیں؟ آپ کا کیا کہنا ہے؟ اس نے ہمارے کانوں میں خطرے کی گھنٹی بجادی ہے!‘

منگل کی شام پولیس کو کولون کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے قریب مردوں کو روک کر اُن سے پوچھ گچھ کرنے کی تصویر لی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بعض پلے کارڈز پر یہ تحریریں درج تھیں: ’مسز میرکل! آپ کہاں ہیں؟ آپ کا کیا کہنا ہے؟

تاہم شہر کی پولیس کے سربراہ وولف گینگ البرز کا کہنا ہے کہ سالِ نو کی شام ہونے والوں حملوں کے لیے ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

اُنھوں نے کہا: ’ہمیں ابھی تک کوئی مشتبہ شخص نہیں ملا اس لیے ہم نہیں جانتے کہ اس واقعے کے مرتکب افراد کون تھے۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ جائے وقوع پر موجود پولیس کے مطابق اُن میں زیادہ تر عرب اور شمالی افریقہ کے خطے سے تعلق رکھنے والے 18 سے 35 سال کی عمر کے نوجوان تھے۔‘

انھوں نے اسے ’جُرم کی ایک بالکل نئی قسم‘ قرار دیا اور اُس شب اپنی پولیس فورس کے کام کے حوالے سے ہونے والی تنقید کو مسترد کردیا۔

جرمنی کے وزیرِ انصاف ہیکو ماس نے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں کو پناہ گزین مخالف جذبات کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا ’فوجداری قانون میں جرم کا ثابت ہونا ضروری ہے اور اس قانون کے نفاذ سے قبل سب برابر ہیں۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کہاں سے آیا ہے بلکہ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ انھوں نے کیا کیا اور یہ کہ ہم اسے ثابت کرسکتے ہیں۔‘

انگیلا میرکل نے منگل کو کولون کی میئر ریکر کو حملوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کے لیے بُلایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کو لوگوں سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے

انھوں نے کہا کہ ’بغیر کسی کے خطے اور پس منظر کی تفریق کے حملے کے مرتکب افراد کی تلاش کو جلد از جلد اور جامع انداز میں ممکن بنانے اور انھیں سزا دینے کے لیے‘ ہر ممکن کوشش کی جائے۔

انھوں نے پولیس کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ ’یہ سراسر نامناسب ہے کہ ایک گروہ جو اُس دن نظر آیا اُس کا تعلق شمالی افریقہ یا پناہ گزینوں کے ساتھ جوڑا جائے۔‘

انھوں نے فروری میں کولون کے کارنیول کی تقریبات میں احتیاطی اقدامات کے حوالے سے بھی یقین دہانی کرائی۔ کارنیول کی تقریبات میں ممکنہ طور پر ہزاروں افراد کے خوشیاں منانے کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی توقع ہے۔

ایک شخص نے بتایا کہ اُن کی بیوی اور 15 سالہ بیٹی کو ایک مجمعے نے گھیر لیا اور وہ خود اُن کی مدد کرنے میں بے بس تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ’حملہ آوروں نے میری بیٹی اور بیوی کے ساتھ جسمانی طور پر نازیبا حرکات کیں۔‘

پولیس کے سامنے زیادہ تر ڈکیتیوں کے واقعات شکایات کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کولون کی میئر ہینریٹ نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ حملہ آوروں کے متعلق حتمی نتائج نہ نکالیں

کولون کے دورے پر موجود ایک برطانوی نژاد خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کچھ مردوں نے جو نہ تو جرمنی کی زُبان بول رہے تھے اور نہ ہی انگریزی، اُن کے گروپ پر آتشبازی کا سامان پھینک دیا۔ وہ ہمیں گلے لگانے اور ہمار بوسہ لینے کی کوشش کررہے تھے۔ ایک شخص نے میری دوست کا بیگ چوری کرلیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’ایک اور شخص نے ہمیں اپنی نجی ٹیکسی میں بٹھانے کی کوشش کی۔ حالانکہ میں نے اپنی زندگی میں بہت زیادہ ڈراؤنی اور خوفناک صورتحال کا سامنا کیا ہے لیکن مجھے آج تک ایسی کسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘

کولون کے دورے پر موجود ایک برطانوی نژاد خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کچھ مرد جو نہ تو جرمنی کی زُبان بول رہے تھے اور نہ ہی انگریزی، نے اُن کے گروپ پر جلتا ہوا آتشبازی کا سامان پھینک دیا۔ وہ ہمیں گلے لگانے اور ہم سے بوسہ دینے کی کوشش کررہے تھے۔ ایک شخص نے میری دوست کا بیگ چوری کرلیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’ایک اور شخص نے ہمیں اپنی نجی ٹیکسی میں بٹھانے کی کوشش کی۔ حالاں کے میں نے اپنی زندگی میں بہت زیادہ ڈراؤنی اور خوفناک صورتحال کا بھی سامنا کیا ہے لیکن مجھے آج تک ایسی کسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘

اسی بارے میں