شمالی کوریا کے’ہائیڈروجن بم‘ کےتجربے پر شکوک و شبہات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دسمبر 2015 میں کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا اپنے جوہری تجربات کی جگہ پر ایک نئی سرنگ تعمیر کر رہا ہے

بین الاقوامی سطح پر شمالی کوریا کی جانب سے پہلی مرتبہ ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربہ کرنےکے دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار اور مذمت کی جا رہی ہے۔

شمالی کوریا میں جوہری تجربات کے مقام کے قریب زلزلے کے بعد سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلی مرتبہ ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

’شمالی کوریا میں جوہری تجربات کے مقام پر نئی سرنگ تعمیر‘

شمالی کوریا کا ہائیڈروجن بم کی تیاری کا دعویٰ

ملک کے سرکاری ٹی وی پر یہ اعلان ماضی میں جوہری تجربات کے لیے استعمال ہونے والی جگہ کے قریب زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جانے کے چند گھنٹے بعد کیا گیا۔

جاپان، چین اور جنوبی کوریا کے حکام نے زلزلے کے بعد کہا تھا کہ ایسے اشارے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجی ری کے قریب آنے والا یہ زلزلہ قدرتی نہیں تھا۔پنجی ری ہی وہ مقام ہے جہاں سنہ 2006 سے اب تک شمالی کوریا تین مرتبہ زیرِ زمین جوہری بم کے تجربات کر چکا ہے۔

اگر شمالی کوریا کے دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس نے 2006 کے بعد سے جوہری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

تاہم جوہری امور کے ماہرین نے شمالی کوریا کے دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا یہ دھماکہ واقعی میں اتنا شدید تھا جو کہ ہائیڈروجن بم کے نتیجے میں ہو سکتا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک رانڈ کارپویشن کے اہلکار بروس بینٹ نے بھی شمالی کوریا کے دعوے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’شمالی کوریا نے جس کا دعویٰ کیا ہے اس میں دھماکہ موجودہ شدت سے دس گنا بڑا ہونا چاہیے تھا۔یا تو کم ینگ ان جھوٹ بول رہے ہیں کہ انھوں نے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے۔ شاید انھوں نےصرف فشن فیول والے ذرہ بہتر ہتھیار کا استعمال کیا یا پھر ہائیڈروجن کا مختصر حصہ استعمال کیا ہے اور تجربے میں ہائیڈروجن کا حصہ کام نہیں کر سکا۔‘

جنوبی کوریا کے ایک سیاست لی چیول وؤ کے مطابق انھیں ملک کے خفیہ ایجنسی نے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ ’ممکنہ طور پرہائیڈروجن پھٹنے کی سطح‘ تک نہیں پہنچ سکا۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 5.1 تھی اور یہ پنجی ری نامی مقام سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر دس کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔جاپانی کابینہ کے چیف سیکریٹری یوشیدے سوگا نے کہا ہے کہ ’ماضی کے واقعات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ ممکن ہے کہ یہ شمالی کوریا کی جانب سے ایک جوہری تجربہ ہو۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ہی ایک امریکی تھنک ٹینک نے کہا تھا کہ مصنوعی سیارے سے حاصل ہونے والی تازہ تصاویر کے مطابق شمالی کوریا اپنے جوہری تجربات کی جگہ پر ایک نئی سرنگ تیار کر رہا ہے۔

عالمی ردعمل

شمالی کوریا کی جانب سے جوہری تجربے کے دعوے کے بعد دنیا بھر سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اس قدم کوعالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

جاپانی وزیرِ اعظم شنزو آبے کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا یہ اقدام جاپان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اس حرکت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہائے نے کہا ہے کہ یہ اشتعال دلانے والی سنگین حرکت اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کا کہنا ہے کہ حکومتی وزرا اس صورتحال پر ہنگامی ملاقات کر رہے ہیں۔

شمالی کوریا کے مرکزی حلیف چین نے بھی کہا ہے کہ وہ اس تجربے کی مخالفت کرتا ہے۔

امریکہ نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ اپنے عالمی وعدوں کی پاسداری کرے اور اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔

عالمی برادری نے ماضی میں شمالی کوریا کے جوہری دھماکوں کے بعد اس پر اقتصادی اور سیاسی پابندیاں عائد کی تھیں۔

عالمی برادری کو شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر شدید تحفظات رہے ہیں اور اس پروگرام کی سبب شمالی کوریا پر پابندیاں بھی عائد ہیں۔

اسی بارے میں