جرمنی میں سالِ نو کے جشن پر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ سالِ نو کے جشن کے دوران ایک گروہ کے خواتین کو ہراساں کیا ہے

جرمنی کی پولیس کے سینیئر حکام کا کہنا ہے کہ انھیں سالِ نو کے جشن کے دوران کولون میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کے بعد اپنی حکمت عملی ازسر نو تشکیل دینی ہوگی۔

جرمنی کی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فالیا کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ نئے سال پر جشن کے دوران رات کو مردوں کاایک گروہ بڑے پیمانے پر خواتین پر تیزاب پھینکےمیں ملوث تھا۔

انھوں نے بتایا کہ تین مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

خواتین نے شکایت کی کے نئے سال کی رات پر مردوں نے انھیں لوٹا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ حلیے سے یہ مرد عرب یا پھر شمالی افریقہ ممالک کے لگتے تھے۔

وزیر داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مہاجرین کی آمد کے مخالف کئی گروہ اس طرح کے حملوں کو مہاجرین کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

رافیل جیگر نے کہا کہ ’یہ حملے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو تباہ کررہے ہیں۔‘

عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے ہجوم میں ایک عورت کے رونے اور چیخنے کی آوازیں سنیں۔ اسے دیکھنے سے لگتا تھا کہ وہ ایک غیرملکی مرد سے پیچھا چھڑا کر بھاگی ہے۔ وہ مرد ابھی بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس عورت پرچیخ رہا تھا اور اس کا پیچھا کررہا تھا۔‘

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ دو مرد کچھ خواتین کو گرجا گھر کے ایک کونے میں لے جا کر ان سے بدتمیزی کرنے لگے، اس دوران وہ خواتین مدد کے لیے چیخ رہی تھیں اور ان مردوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

راف جیگر کا کہنا ہے کہ پولیس اس بات کو یقینی بنائے کہ نئے سال کے جشن کے دوران ایسے واقعات بار بار رونما نہ ہوں۔

’پولیس کو اس حقیقت کو جاننا چاہیے کہ شہر میں کچھ ایسے گروہ ہیں جو خواتین پر بڑے پیمانے پر تشدد کر رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات رونما نہیں ہونے چاہیں۔ پولیس اور شہر کے حکام کو اس کاجواب دینا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کولون پولیس نے بتایا کہ جرائم کی کل 106 شکایات میں سے دو ریپ کیسز کے اور تین چوتھائی شکایات جنسی تشدد کی تھیں

ان واقعات نے جرمنی میں کھلبلی مچا دی ہے کیونکہ گذشتہ سال جرمنی میں داخل ہونے والے دس لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کی اکثریت شام سے آنے والوں کی ہے۔

جرمنی میں اسلام مخالف تحریک ’پرا پیگنڈہ‘ اور دائیں بازو کی جماعت ’ای ایف ڈی‘ کا کہنا ہے کہ یہ حملے ملک میں بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد کا نتیجہ ہیں۔

کولون کے میئر کے مطابق ان حملوں میں مہاجرین کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا ہے۔

سالِ نو پر جشن کے لیے کولون کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے باہر موجود افراد آتش بازی کررہے تھے۔ ان میں اکثریت نشے کی حالت میں تھے۔

پولیس نے آتش بازی سے آگ لگنے اور زخمی ہونے کے خدشے کے پیش نظر علاقےکو خالی کروا لیا تھا لیکن کچھ ہی دیر بعد نوجوانوں کے گروہ واپس آگئے اور اگلے کئی گھنٹوں تک اس طرح کے حملے کرتے رہے۔

رات گئے تک مقامی حکام کی جانب سے کسی طرح کی جوابی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔

بدھ کو کولون پولیس نے بتایا کہ جرائم کی کل 106 شکایات میں سے دو ریپ کیسز کے اور تین چوتھائی شکایات جنسی تشدد کی تھیں۔ ہیمبرگ اور سٹوٹ گارڈ میں بھی خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔

ہیمبرگ میں خواتین کی جانب سے لوٹے جانے اور بدتمیزی کے واقعات کی 30 سےزیادہ شکایات درج کروائیں، جبکہ سٹوٹ گارڈ کی پولیس کےمطابق شہر کے مرکزی علاقے میں بھی کئی خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔

کولون پولیس چیف نے اپنے افسران پر کسی بھی قسم کی تنقید کو مسترد کرتے کہا ہے کہ اس رات جو کچھ ہوا وہ ملک میں جرائم کا ایک بالکل نیا پہلو ہے ۔

اسی بارے میں