قیمتیں کم، سپلائی زیادہ ، ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں رہی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اتنی زیادہ کی گئی ہے کہ ممالک کے پاس اسے ذخیرہ کرنے کی جگہ کم پڑ گئی ہے

امریکہ کے توانائی کے ذخائر میں اضافہ اور چینی کرنسی میں گراوٹ کے باعث جمعرات کو تیل کی قیمتیں کمی کے بعد 32.62 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہیں۔

برینٹ کروڈ تیل میں 4.7 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیئٹ 3.9 فیصد کم ہوا ہے۔

دسمبر سنہ 2008 میں عالمی مالیاتی بحران کے دوران 32.40 کی سطح کو چھونے کے بعد یہ امریکی تیل کی کم ترین سطح ہے۔

تیل کی قیمتیں 11 سالوں کی کم ترین سطح پر

تیل کی آمدن میں کمی سے سعودی عرب کے مالی خسارے میں اضافہ

تاہم برینٹ کروڈ تیل کی قیمت گذشتہ 11 سالوں میں پہلی بار کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ آخری مرتبہ برینٹ تیل کی قیمتوں میں اتنی کمی اپریل سنہ 2004 میں دیکھی گئی تھی۔

ضرورت سے زیادہ سپلائی اور ریکارڈ پیداوار کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ جون 2014 میں قیمتوں میں شروع ہونے والی کمی میں اب تک 70 فیصد کمی ہو چکی ہے۔

اس کے نتیجے میں وہ کمپنیاں اور حکومتیں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں جن کی آمدن کا زیادہ تر انحصار تیل پر ہے۔

تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے چین نے جمعرات کو یوان کی قدر میں کمی کر دی ہے جس کے باعث خطے کی دیگر کرنسیوں اور سٹاک مارکٹس میں بھی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دسمبر سنہ 2008 میں عالمی مالیاتی بحران کے دوران 32.40 کی سطح کو چھونے کے بعد یہ امریکی تیل کی کم ترین سطح ہے

خام تیل کی طلب میں کمی اس وقت ہوتی ہے جب امریکی ڈالر خریدار ممالک کی کرنسی کے مقابلے میں مضبوط ہو جاتا ہے اور چین دنیا کا سب سے بڑا توانائی کا صارف ہے۔

آدھےگھنٹے سے بھی کم وقت کے لیے حصص کی خریدو فروخت کے بعد چین کی سٹاک مارکٹس دن بھر کے لیے بند کر دی گئیں۔

گذشتہ رات امریکی محکمہ توانائی کی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمرشل کروڈ انوینٹریز یا ذخائر 5.1 ملین بیرلز سے 482.3 ملین تک پہنچ گئے۔امریکی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق خام تیل کی پیداوار میں 17000 بیرل یومیہ کا اضافہ ہوا ہے اور کل پیداوار 9.22ملین بیرل یومیہ پر پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ گذشتہ چار ہفتوں سے جاری ہے۔ امریکی ریاست اوکلوہوما کے تیل کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

عالمی سطح پر بھی تیل کی فراہمی میں اضافے کی وجہ سے کئی ممالک کے پاس اسے ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں رہی ہے۔

یونیورسٹی آف ڈنڈی اینڈ مڈل ایسٹ سپیشلسٹ کے پروفیسر پال سٹیونز کے مطابق امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ممالک میں شامل ہے کہ لیکن اب اس کے پاس بھی اور زیادہ تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ذخیرہ کرنے کی جگہ کافی حد تک بھر چکی ہے اور لوگ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ٹینکر خریدنے کے بارے میں غور کرنا شروع ہو گئے ہیں۔‘

’تاہم سپلائی اسی طرح طلب سے زیادہ رہی تو صرف ایک ہی کام ہو سکتا ہے اور وہ یہ کے اسے فروخت کر دیا جائے جس کی وجہ سے قیمتیں مزید کم ہو جائیں گی۔‘

اسی بارے میں