محصور علاقوں میں لوگ گھاس کھانے پر مجبور

Image caption شام میں گذشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ شام کے تین محصور دیہاتوں میں صورتحال ’انتہائی سنگین‘ ہے۔

امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ دمشق کے قریب باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مدایا میں عام شہری خوراک، ادویات میں کمی یا علاقے سے نکلنے کی کوششوں میں مارے جا رہے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ شام کے شمال مغرب میں حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں فوح اور کیفرایہ میں شہری گھانس کھانے پر مجبور ہیں۔

آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ اُنھیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اِن علاقوں میں امداد پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں چار سال سے جاری جنگ کے دوران تمام فریق علاقے کا محاصرہ کرنے کی حکمت عملی کا استعمال کر رہے ہیں، جو کہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔

اکتوبر کے آخر میں کیے گئے ایک اندازے کے مطابق اِن محصور علاقوں میں تقریباً 393,700 شہری رہائش پذیر ہیں۔

زمین سے کھانے پر مجبور

Image caption محصور علاقوں میں امدادی اشیاء پہنچانے میں امدادی اداروں کو دقت پیش آ رہی ہے

مدایا دمشق کے شمال مغرب میں تقریباً 25 کلومیٹر دور اور لبنان کی سرحد سے تقریباً 11 کلومیٹر پر واقع ہے۔ جولائی سے سرکاری فورسز، اور اُن کی لبنانی اتحادی شیعہ تنظیم حزب اللہ نے اِس علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

اکتوبر کے وسط میں ادویات اور امدادی سامان سے لدے 21 ٹرکوں کو اِس علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی تھی، خیال کیا جارہا ہے کہ اِس علاقے میں اب بھی 40,000 افراد رہائش پذیر ہیں۔

اُس کے بعد سے صورتحال بدترین ہوگئی ہے، کیونکہ نہ تو اُن کو دوبارہ امداد بھیجی گئی ہے اور اب موسم سرما کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔

آئی سی آر سی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ آخری بار جب امداد گئی تھی تو وہ قافلے کے ساتھ مدایا گئے تھے، اور اُس وقت بھی صورتحال کافی خراب تھی۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’لوگ بنیادی ضرویاتِ زندگی کے بغیر زندگی گزار رہے تھے، اور اب تو صورتحال پہلے سے بھی سنگین ہوگئی ہے۔‘

’سرد موسم نے واضح طور پر حالات کو مزید بدتر بنا دیا ہے، لوگ اپنے آتش دان کو جلانے کے لیے ہر ممکن چیز کا استعمال کررہے ہیں، جس میں پلاسٹک بھی شامل ہے اور اِس سے سانس کے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ آئی سی آر سی مدایا میں ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کرسکتی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے پیر کو بتایا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران خوراک کی کمی کے باعث دس افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کھانے کی تلاش نکلنے والے دیگر 13 افراد حکومت کی حمایت یافتہ فوج کی فائرنگ اور سرنگ کے دھماکوں میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ گاؤں کے اندر مزید 1,200 افراد دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ تین سو سے زائد بچے غذائی قلت اور دیگر بیماریوں کا شکار ہیں۔

ایک امدادی کارکن جن کا اپنا خاندان مدایا میں محصور ہے، نے جمعرات کی رات کو بی بی سی کو بتایا کہ ’شہری مر رہے ہیں۔ وہ زمین سے کھانا کھانے پر مجبور ہیں۔ وہ بلیاں اور کتے کھا رہے ہیں۔

امدادی کارکن نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ’مدایا کے لوگوں کی حمایت کرنے اور انسانی راستے کھولنے‘ کی اپیل کی ہے۔

ایک مقامی اہلکار نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ ’بنیادی ضرورتوں کی چیزوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک کلو آٹے کا تھیلا 250 امریکی ڈالر اور 900 گرام وزن والا بچوں کا کھانے کا تھیلا تقریباً 300 امریکی ڈالر میں فروخت ہورہا ہے۔

امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے فوح اور کیفرایہ کے محاصرے کے جواب میں حکومت اور حزب اللہ نے مدایا کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

باغیوں کے زیر انتظام شہر ادلب کے شمال میں تقریباً 7 کلو میٹر دور، بنیادی طور پر شیعہ اکثریت والے دیہاتوں میں بھی صورتحال اُس وقت سے بہت خراب ہے، جب باغیوں نے قریبی سرکاری ہوائی اڈے پر قبضہ کرلیا تھا جہاں سے ہیلی کاپٹر خوارک کی فراہمی کیا کرتے تھے۔

ایک زخمی کے مطابق اِن دیہاتوں میں تقربیاً 30,000 افراد پھنسے ہوئے ہیں، اِن کو گھانس پر مجبور کیا جارہا ہے اور یہاں مریضوں کو بےہوش کیے بغیر آپریشن سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

کیفرایہ سے نکلنے والے ایک جنگجو نے اے پی کو بتایا کہ وہاں زندگی ’قیامت خیز‘ تھی۔

آئی سی آر سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آئی سی آر سی کی ’پہلی ترجیح‘ ہے کہ آنے والے چند روز میں مدایا، فوح اور کیفرایہ کے علاقوں میں امداد پہنچائی جائے، لیکن اُنھوں نے خبردار کیا ہے کہ اب بھی وہاں جانے کے بات چیت کرنی ہے۔