شمالی کوریا کو مشترکہ اور عالمی سطح کا جواب دینے پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما نے جاپان اور جنوبی کوریا کے تحفظ کے لیے امریکہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا

امریکی صدر کے دفتر کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے جواب میں امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے مشترکہ طور پر سخت اور عالمی سطح کا جواب دینے پر اتفاق کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے اس سلسلے میں اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب پارک گیون ہائے اور جاپانی وزیرِ اعظم شنزو آبے سے ٹیلیفون پر بات کی ہے۔

سلامتی کونسل کا شمالی کوریا کے خلاف فوری اقدامات کا فیصلہ

شمالی کوریا کے’ہائیڈروجن بم‘ کےتجربے پر شکوک و شبہات

شمالی کوریا پر امریکہ کی مزید پابندیاں

امریکی حکام کے مطابق صدر اوباما نے اس بات چیت کے دوران ان ممالک کی سکیورٹی کے لیے امریکہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شمالی کوریا کا لاپرواہی پر مبنی رویہ قابلِ مذمت ہے۔

جاپانی وزیرِ اعظم شنزو آبے نے بدھ کو شمالی کوریا کی جانب سے جوہری تجربے کے اعلان کے بعد کہا تھا کہ یہ اقدام جاپان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اس حرکت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہائے نے بھی اسے اشتعال دلانے والی سنگین حرکت قرار دیا تھا۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور دنیا بھر کے ممالک شمالی کوریا کے حالیہ جوہری تجربے کی مذمت کرتے ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کا جوہری تجربہ انتہائی اشتعال انگیز قدم ہے۔

بیان کے مطابق اس تجربے سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو خطرہ ہے اور یہ اقوام متحدہ کی ایک سے زائد قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جان کیری کا کہنا تھا: ’ہم شمالی کوریا کو جوہری ریاست تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی ایسا کریں گے۔‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی شمالی کوریا کی جانب سے ہائیڈروجن بم کے تجربے کے بعد فوری طور پر اس کے خلاف نئی پابندیاں لگانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

بدھ کو منعقدہ ہنگامی اجلاس میں سلامتی کونسل نے اس تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کے لیے خطرہ اور خدشہ‘ قرار دیا ہے۔

یہ اجلاس بھی امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی جانب سے ہی طلب کیا گیا تھا۔

شمالی کوریا کی جانب سے سنہ 2006 سے یہ چوتھا جوہری تجربہ ہے اور اگر حالیہ تجربے کی تصدیق ہوگئی تو یہ ہائیڈروجن بم کا پہلا تجربہ ہوگا۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے سنہ 2006، 2009 اور 2013 میں جوہری تجربات کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی تھیں جبکہ 20 ادارے اور 12 افراد اقوام متحدہ کی جانب سے بلیک لسٹ کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں