سان برناڈینو کیس کا ملزم اقبالِ جرم سے انکاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مارکیز کے مقدمے کی سماعت 23 فروری کو ہوگی

سان برناڈینو سانحے میں گرفتار ملزم انریق مارکیز نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام پانچوں الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ اُن پر سان برناڈینو حملے میں اِستعمال ہونے والے ہتھیاروں کی خریداری کا الزام ہے۔

24 سالہ مارکویز کو اُس وقت ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں جب انھوں نے درخواست کی کہ ’انھوں نے اس جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے۔‘

’رابطہ آن لائن ہوا، ملاقات حج پر ہوئی‘

18 منٹ میں کیا ہوا، ایف بی آئی متلاشی

نائن الیون سانحے کے بعد سے وہ پہلے شخص ہیں جن کو ہلاکت خیز دہشت گردی کے حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، اگر وہ مجرم ثابت ہوئے تو اُنھیں 50 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

دسمبر کے اوائل میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک مرکزِ صحت پر حملے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مارکیز پر سان برناڈینو واقعے کے ملزم سید فاروق کے ساتھ مل کر سنہ 2011 اور 2012 میں ایک یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے، اِس کے ساتھ ساتھ اُن پر حملے میں اِستعمال ہونے والی دو رائفل سید فاروق اور اُن کی اہلیہ تاشفین ملک کو فراہم کرنے کا بھی الزام ہے۔

ماکیز نے حکام کو بتایا ہے کہ اُنھوں نے ہتھیار اِس لیے خریدے کیونکہ وہ سفیدفام نظر آتے ہیں، جبکہ فاروق مشرق وسطیٰ نژاد باشندوں کی طرح دکھتے تھے۔

پولیس نے حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی فاروق اور اُن کی اہلیہ کو ہلاک کردیا تھا، جب دونوں نے چھٹی کے دن دعوت کرنے والے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کردی تھی۔

مجرمانہ شکایت کے مطابق سان برنارڈینو فائرنگ کے چند گھنٹوں بعد مارکیز نے حکام کو فون کرکے بتایا کہ حملہ آوروں نے ’اُن کے ہتھیار استعمال‘ کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ABC News
Image caption مارکیز پر سان برناڈینو واقعے کے ملزم سید فاروق کے ساتھ مل کر سنہ 2011 اور 2012 میں ایک یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے

مارکیز نے اِس سے قبل ہونے والے ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کا بھی انکشاف کیا جن پر کبھی عمل نہیں ہوسکا، اِس میں مقامی یونیورسٹی پر حملے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جہاں مارکیز اور فاروق زیر تعلیم رہے ہیں۔

اُن کا موٹروے پر پائپ بمبوں کے ذریعے سے گاڑیوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ اور پولیس افسران اور شہریوں پر فائرنگ کرنے کا بھی ارادہ تھا۔

گذشتہ مہینے سان برنارڈینو میں ہونے والے حملے میں بھی متعدد پائپ بم استعمال کیے گئے تھے، تاہم اُن میں سے کوئی بھی پھٹ نہیں سکا۔

مارکیز کے مقدمے کی سماعت 23 فروری کو ہوگی۔

ایف بی آئی نے منگل کو عوام سے اپیل کی کہ حملے کے بعد مجرم جوڑے کی نقل و حرکت کے بارے میں آگاہ کریں۔

اسی بارے میں