دولتِ اسلامیہ کو چھوڑنے کا کہنے پر ماں کا سرعام قتل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رقہ دولتِ اسلامیہ کا مضبوط گڑھ ہے

شام میں اطلاعات کے مطابق خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے شدت پسند تنظیم کے ایک شدت پسند نے اپنی ماں کو اس وجہ سے سرعام قتل کر دیا کیونکہ انھوں نے اسے گروپ کو چھوڑنے کا کہا تھا۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والے کارکنوں کے مطابق یہ واقعہ رقہ میں ڈاک خانے کے سامنے پیش آیا۔

دولتِ اسلامیہ کی نئی ویڈیو میں ’پانچ برطانوی جاسوس ہلاک‘

دولتِ اسلامیہ اپنا وجود کیسے برقرار رکھ رہی ہے؟

عینی شاہدین کے مطابق 21 سالہ علی ساقر نے اپنی 45 سالہ ماں لینا القاسم کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق لینا القاسم نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ امریکہ کی قیادت میں فوجی اتحاد دولتِ اسلامیہ کو ختم کر دے گا اور انھوں نے کوشش کی تھی کہ بیٹا ان کے ساتھ شہر چھوڑ دے۔

لینا القاسم کے بیٹے نے اپنی ماں کے خیالات کے بارے میں گروپ کو آگاہ کیا تو انھوں نے لینا القاسم کو قتل کرنے کا حکم دیا۔

علی ساقر نے راقہ میں ڈاک خانے کے باہر سینکڑوں افراد کی موجودگی میں اپنی ماں کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

سنہ 2014 میں دولتِ اسلامیہ میں عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد خلاف کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں