امریکہ: مبینہ شدت پسند کے حملے میں پولیس اہلکار زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Philadelphia Police
Image caption ایڈورڈ آرچر نامی حملہ آور نے پولیس اہکار پر 11 گولیاں چلائیں

امریکی ریاست فلڈیلفیا میں حکام کے مطابق ایک شخص نے ایک پولیس افسر کو مارنے کی کوشش کی ہے۔

مبینہ طور پر حملہ آور کا رجحان شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب ہے۔

ایڈورڈ آرچر نامی حملہ آور نے پولیس اہکار پر 11 گولیاں چلائیں اور پولیس کے مطابق اس نے یہ کام ’اسلام کے نام پر کیا۔‘

پولیس اہلکار جیسی ہارنیٹ نے اپنے اوپر کے جانے والی فائرنگ کے باوجود اپنی گاڑی سے نکل کر حملہ آور پر جوابی فائرنگ کی جس سے کم از کم ایک گولی حملہ آور کو لگی۔

ایڈورڈ آرچر حملے کے بعد پیدل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم جلد ہی پولیس نے انھیں پکڑ لیا۔

پولیس کمشنر رچرڈ روس کا کہنا ہے کہ ’یہ میری زندگی کے خوفزدہ ترین لمحات میں سے ایک ہے۔‘

’وہ شخص پولیس اہکار کو مارنا چاہتا تھا۔ پولیس اہلکار کو بالکل خیال نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔‘

پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ ’اس نے یہ بزدلانہ اقدام اسلام کے نام پر کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔‘ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ’پولیس ایسے قوانین کا دفاع کرتی ہے جو اسلام کے برعکس ہیں۔‘

پولیس کے مطابق ایسے شواہد نہیں ملے کہ پینسلوینیا کے رہائشی 30 سالہ ایڈورڈ آرچر کسی کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس اہلکار جیسی ہارنیٹ پانچ سال سے پولیس کے شعبہ سے وابستہ ہیں

فیلڈیلفیا کی عدالت کے ریکارڈ کے مطابق انھیں لڑائی جھگڑے کے مقدمے میں مارچ میں مجرم ٹھہرایا گیا تھا اور ان کی قید کی سزا شروع ہونے والی تھی۔

ان پر کاغذات میں ردوبدل کرنے کا بھی الزام ہے۔

تاہم آرچر ایڈورڈ کی والدہ ولیری ہولیڈے نے فیلڈیلفیا انکوائرر اخبار کو بتایا ہے کہ ان کا ذہنی توازن درست نہیں اور انھیں متعدد مرتبہ سر پر چوٹیں آئی ہیں۔

ولیری ہولیڈے کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرچر ایڈورڈ ’ایک طویل عرصے سے‘ دلی طور پر مسلمان رہے تھے۔

پولیس کمشنر کے مطابق حملے میں استعمال کی گئی بندوق پولیس کی ملکیت ہے اور اسے سنہ 2013 میں چرایا گیا تھا۔

اسی بارے میں