محصور شہر میں ایک لڑکی کی زندگی کے لیے جنگ

Image caption عاصمہ کا چہرہ ایک پلاسٹک کے ماسک سے ڈھکا ہوا تھا جو ایک وینٹی لیٹر سے منسلک تھا

بی بی سی کی صّفا الاحماد کا شمار اُن چند صحافیوں میں ہوتا ہے جو یمن کی خانہ جنگی میں گھرے مرکزی شہر تعز تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔

انھیں گولہ باری سے تباہ حال شہر ملا اور ایک ڈاکٹر جو ایک چھ سالہ بچی کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

محصور شہر تعز کے التھورا ہسپتال میں آپریشن روم کے باہر ڈاکٹر اس متعلق بات کرنے کے لیے اکھٹے ہیں کہ اُن کے مریضوں میں سے کس کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے کیونکہ مطلوبہ ادویات اور آکسیجن کے بغیر وہ مریض جو یمن کی بے رحم خانہ جنگی میں زخمی ہیں اُن کا علاج ممکن نہیں اس لیے اُنھیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔

یمن امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم

یمن میں جنگ بندی کے باوجود تازہ جھڑپیں،’68 افراد ہلاک‘

’یمن میں جنگ بندی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے‘

Image caption آکسیجن کے بغیر وہ مریض جو یمن کی بے رحم خانہ جنگی میں زخمی ہیں اُن کا علاج ممکن نہیں

دسمبر کے وسط میں جس دن میں پہنچی اُس روز ڈاکٹروں کو ایک چھ سالہ بچی عاصمہ اور پیٹ پر ناسور زدہ زخم والے ایک بوڑھے شخص کے درمیان انتخاب کرنا تھا۔

عاصمہ ایک گولے کا اُس وقت نشانہ بنیں جب وہ ایک گاڑی سے پانی لینے کی قطار میں کھڑی تھیں۔ اس حملے میں 19 دیگر بچے زخمی جبکہ پانچ ہلاک ہوئے۔

اس حملے کے نتیجے میں عاصمہ کی کھوپڑی کا ایک حصہ اُڑ گیا تھا جس کا حجم میری ہاتھ کی ہتھیلی جتنا تھا۔ اُن کے زخموں کی شدید نوعیت کے باوجود سرجن نے انھیں بچانے کی کوشش شروع کی۔

آپریشن روم میں موجود خون اور جراثیم کش دوا کی بدبو قے آور تھی۔ ایک سفید سرجیکل پلاسٹر جسے سرجن عاصمہ کے دماغ میں موجود چھید کو رفو کرنے کے لیے تیار کر رہے تھے

عاصمہ کی کھوپڑی کو متاثر کرنے والا مارٹر گولہ یقینی طور پر حوثی باغیوں کی جانب سے فائر کیا گیا تھا اور یہ اُن کی آٹھ ماہ کی مہم کا ایک حصہ تھا جس کا مقصد یمن کے دوسرے بڑے شہر تعم کا کنٹرول بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وفادار فوجوں سے چھین کر اپنے ہاتھ میں لینا ہے جس کے لیے حوثی باغیوں نے تعز کا محاصرہ کرنا شروع کردیا اور شہر جانے والے تمام راستوں کو منقطع کرکے سڑک کے ذریعے بنیادی سامان کی ترسیل کو روک دیا۔

میں پہاڑوں میں واقع ایک تنگ اور دُھول مٹی سے اٹے راستے کے ذریعے شہر پہنچی یہ راستہ ہمیں فرنٹ لائن کے قریب لے جا رہا تھا۔ اس راستے پر خوراک، ہتھیاروں، آکسیجن اور گیس کے کنستروں سے لدے جانور درمیانی رفتار سے چل رہے تھے اور ہمیں اکثر اس سمت میں چلتے اونٹوں اور گدھوں کو راستہ دینا پڑتا تھا اسی راستے پر بچے بھی چل رہے تھے۔

اُنھی میں ایک بچہ جس کی عمر چار سال سے زیادہ نہیں تھی نے اپنے وزن سے زیادہ جلانے والی لکڑی کا ایک ٹکڑا پکڑ رکھا تھا، لیکن وہ اپنی عمر سے بڑے لڑکوں کے ایک گروہ کے ساتھ اپنی رفتار برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم تھا۔

کچھ لمحات کے لیے میں بھی دو خواتین کے ساتھ پیدل چلی جو اپنے گاؤں سے تعز واپس آ رہی تھیں۔ وہ علی الصبح نکلی تھیں اور 10 گھنٹوں سے زیادہ وقت سے چل رہی تھیں۔ کبھی اپنے حوصلے برقرار رکھنے کے لیے گانا گاتیں تو کبھی رُک کر آرام کرتیں۔ کچھ ہی دُور سے دھماکوں اور لڑائی کی آوازیں آ رہی تھیں۔

اسی راستے کے ذریعے ہلاک اور زخمی افراد کو بھی لے جایا جاتا ہے۔ مرنے والے افراد کی لاشیں بھی اس راستے سے قبروں تک لے جائی جاتی ہیں۔ زخمی، جنگجو اور عام شہری بھی تعز کے اُن ہسپتالوں تک جانے کے لیے جو اب بھی کُھلے ہیں یہی راستہ استعمال کرتے ہیں۔

ہسپتال تک پہنچنا اُنھیں اُن کی زندگی کی ضمانت نہیں دیتا۔ شہر میں صرف التھورا ہسپتال ہی ہے جس کے پاس ہنگامی جراحی پر مشتمل فعال یونٹ موجود ہے لیکن اس کو روزانہ حوثی باغیوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میرے وہاں پہنچنے سے دو روز قبل ہسپتال پر داغے گئے ایک مارٹر گولے نے دو ڈاکٹروں کو ہلاک اور متعدد دوسرے افراد کو زخمی کردیا۔

اس ہسپتال میں وہ مریض جنھیں آپریش کی ضرورت ہوتی ہے اُن کے لیے بھی ادویات کی سپلائی افسوس ناک حد تک کم ہے۔ دوسرے مریضوں کے آپریشن بھی نہیں کیے جا رہے کیونکہ کچھ قیمتی آکسیجن کے کنستر ایسے افراد کے لیے محفوظ کیے جانے ضروری تھے جو شدید زخمی ہو اور ان میں جینے کی حقیقی اُمید موجود ہو۔

بہت سے کیسوں میں مریض کا خاندان ہسپتال کو آکسیجن کے کنستر فراہم کر دیتا ہے لیکن یہ سب کچھ عاصمہ کی استطاعت سے باہر تھا جس کے ساتھ کھڑا ہونے والا یا اسے پکڑنے والا کوئی نہیں تھا۔

عاصمہ آپریشن کے ذریعے بچ گئی تھی اور اپنے بستر پر اکیلی لیٹی تھی۔ اُس کے پتلے کندھے کمبل سے بھی نمایاں تھے، اُس کے بال جھڑ چکے تھے، آنکھیں سوجی اور نقاہت کے باعث سیاہ ہو چکی تھیں۔

ڈاکٹر احمد مقبال نے بتایا کہ تعز میں بہت سے دیگر لوگوں کی طرح عاصمہ کا خاندان گولہ باری کے دوران بے گھر ہوگیا تھا اور اب کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں تھا جہاں وہ اپنے باقی بچ جانے والے بچوں کو رکھ سکیں۔

عاصمہ کا چہرہ ایک پلاسٹک کے ماسک سے ڈھکا ہوا تھا جو ایک وینٹی لیٹر سے منسلک تھا اور اُس کی چھاتی مشین کے سانس دینے کے دوران حرکت کر رہی تھی لیکن یہ مشین صرف ہوا ہی دی رہی تھی اس میں کوئی آکسیجن نہیں بچی تھی جو اُسے دی جاتی اور اس کے بغیر دماغ کے دوبارہ شفایاب ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔

ڈاکٹر مقبال کے مطابق’ہم نےعاصمہ کی زندگی بچانے کے لیے بہت کوشش کی لیکن یہ سب کوششیں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے رائیگاں جا سکتی ہیں۔‘

Image caption آپریشن روم میں موجود خون اور جراثیم کش دوا کی بدبو قے آور تھی

ہسپتال کے اگلے بستر پر گولہ باری کے زخموں سے چُور ایک ضعیف شخص لیٹے ہوئے تھے، وہ بہت زیادہ تھکے ہوئے محسوس ہو رہے تھے اور کا دو دن بعد کا انتقال ہوگیا۔

25 دسمبر کو میرے ہسپتال کے دورے کے دو ہفتے بعد التھورا ہسپتال نے نئے مریضوں کے لیے اپنے دروازے بند کر لیے تھے کیونکہ ہسپتال آکسیجن اور ادویات کے بغیر چل رہا تھا۔چھ سالہ عاصمہ بھی بعد میں اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئی تھیں۔

اسی بارے میں