فلسطینی،اسرائیلی کی داستانِ محبت میں عوامی دلچسپی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس کتاب کی دیگر ممالک میں اشاعت کے حوالے سے بھی دلچسپی بڑی ہے

اسرائیلی وزارتِ تعلیم کی جانب سے ایک فلسطینی مسلمان اور ایک اسرائیلی یہودی کی محبت کی کہانی بیان کرنے والی کتاب پر سکولوں میں پڑھانے پر پابندی لگائے جانے کے بعد لوگ اسے بڑی تعداد میں خرید رہے ہیں۔

حکام کو خدشہ ہے کہ مصنف ڈورٹ رابنیان کی ’باڈر لائف‘ نامی کتاب یہودی اور عرب نوجوانوں میں تعلقات قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتی ہے۔

سنہ 2014 میں شائع ہونے والی یہ کتاب ایک اسرائیلی خاتون کی کہانی بیان کرتی ہے جن کو نیویارک میں ایک فلسطینی فنکار سے محبت ہو جاتی ہے۔ جب یہ دونوں واپس اپنے ممالک میں آتے ہیں تو وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔

لیکن حکام کے اس فیصلے کا الٹا اثر ہوا ہے اور کتاب کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس کتاب کی دیگر ممالک میں اشاعت کے حوالے سے بھی دلچسپی بڑی ہے۔ سپین، برازیل اور ہنگری میں اس کی اشاعت کے لیے اس کے ترجمے کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔

مصنف ڈورٹ رابنیان کے ایجنٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں ایک محدود مارکیٹ ہونے کے باوجود ایک ہفتے میں کتاب کی 5 ہزار سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئی ہیں اور بہت سی دوکانوں سے اس کی تمام کاپیاں فروخت ہوگئی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے مصنفہ کا کہنا تھا کہ ’ اس کتاب کو خریدنے کی وجہ میرے خیال میں ایک احتجاج ہے۔اس کو صرف میرے مداح نہیں بلکہ اسرائیلی جمہوریت کے مداح بھی خرید رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کتاب کو خرید کر وہ اسرائیل کی کشادہ ذہنیت، آزادی رائے اور پسند کی تصدیق کر رہے ہیں۔‘

استاتذہ نے مطالبہ کیا تھاکہ اسے ہائی سکول کے نصاب میں شامل کیا جائے لیکن وزارتِ تعلیم کے افسران نے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

کتاب کے حوالے سے اسرائیلی پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کی ایک دستاویز سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’یہودیوں اور غیر یہودیوں کے مابین جسمانی تعلقات ہماری شناخت کے لیے خطرہ ہیں۔‘

اسرائیلی یہودیوں اور فلسطینی مسلمانوں کے مابین تعلقات شاذ و نادر ہی قائم ہوتے ہیں اور دونوں معاشروں میں اسے بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

کتاب کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وزارتِ تعلیم نے اپنے موقف میں نرمی کی ہے اور جعمرات کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کتاب پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ طلبہ اسے سکول میں پڑھ سکیں گے لیکن اس کے بارے میں امتحان نہیں لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اسرائیلی حکومت نے فنونِ لطیفہ سے متعلق کسی ایسی چیز پر پابندی لگائی ہو جو ان کی نظر میں فلسطینیوں کو اچھے انداز میں پیش کرتے ہیں۔

گزشتہ برس جون میں حکومت نے ایک ڈرامے کی فنڈنگ بھی یہ کہہ کر بند کردی تھی کہ اس میں ایک فلسطینی حملہ آور سے ہمدردی دیکھائی گئی ہے۔

اسی بارے میں