دس چیزیں جن سے ہم لاعلم تھے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈائنوسار کے بارے میں بہت سی معلومات رفتہ رفتہ سامنے آ رہی ہیں

1۔ ڈائنوسار اپنے ساتھی کو لبھانے کے لیے شاید رقص کیا کرتے تھے۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں (لاس اینجلس ٹائمز)

2۔ ٹوئٹر پر کینیڈا کے باشندے امریکیوں سے زیادہ سائشتہ ہیں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں (ووکس)

3۔ سنہ 2015 میں کوئی بھی شخص ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی نہ سر کر سکا۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں (دا ٹیلیگراف)

4۔ ہپناٹزم کرنے والے پال میک کینا نے اپنی سابق سیکریٹری کو ایک سپریڈ شیٹ تیار کرنے کے بعد اپنی اہلیہ کے طور پر منتخب کیا۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں (دا آبزرور)

5۔ لوگ ٹوائلٹ میں بیٹھنے کے مقابلے نل سے آنے والے پانی کے ذریعے زیادہ جراثیم سانس کے ذریعے اندر لیتے ہیں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں (نیو سائنٹسٹ)

تصویر کے کاپی رائٹ EntressangleDaynesSPL
Image caption ابتدائی انسان کے ڈی این پر تحقیق جاری ہے

6۔ سب سے چھوٹی گرگرٹ کی زبان سب سے تیز ہوتی ہے۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں (گزموڈو)

7۔ جو لوگ شرم سے لال ہو جاتے ہیں وہ نہ شرمانے والوں سے زیادہ گرم جوشی سے ملنے والے ہوتے ہیں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

8۔ فیس بک کو پتہ چلا ہے کہ ان کے صرف پانچ فی صد اکاؤنٹس ہیں جو کہ ہائڈ پوسٹ کا 85 فی صد استعمال کرتے ہیں اور اس میں سے بعض سوپر ہائڈر ہیں جو تقریبا ہر چیز چھپا لینا چاہتے ہیں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں (سلیٹ)

9۔ لوگوں کے ڈی این میں نینڈرتھال کے جین ہیں جو انھیں الرجیز سے بچاتے ہیں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

10۔ سوالوز اینڈ امیزنس کی مہم میں نایاب نورفلوک بولی کی سب سے لمبی مثال موجود ہے جو کہ آخری نسل نے بولی ہوگی۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں (دا ٹائمز)

اسی بارے میں