’کولون میں تشدد اور جنسی حملے منصوبہ بندی کے تحت ہوئے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جرمنی کے شہر کولون میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سالِ نو کی تقریبات کے دوران جرائم کے 516 معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں سے 40 فیصد خواتین پر جنسی حملوں کی شکایات سے متعلق ہیں۔

ادھر جرمنی کے وزیرِ انصاف ہیکو ماس کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ کولون میں سالِ نو کے موقع پر خواتین پر جنسی حملے اور چوریوں کی وارداتیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی تھیں۔

میرکل تارکینِ وطن کے لیے سخت قوانین کی خواہاں

جرمنی کا جرائم میں ملوث پناہ گرینوں کو ملک بدر کرنے پر غور

جرمنی میں سالِ نو کے جشن پر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایات

پولیس کا کہنا ہے کہ ان حملوں اور وارداتوں کے لیے مشتبہ افراد میں شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی اور غیر قانونی تارکینِ وطن شامل ہیں۔

31 دسمبر کی شب پیش آنے والے ان واقعات کی وجہ سے جرمنی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور تارکینِ وطن کے لیے جرمنی کی کھلے دروازے کی پالیسی پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کولون میں سالِ نو کے موقع پر پیش آنے والے واقعات کی تفتیش کے سلسلے میں پولیس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے

حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد ان ایک ہزار لوگوں میں سے تھے جو کولون کے مرکزی ٹرین سٹیشن پر جمع ہوئے اور پھر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ کر انھوں نے خواتین سے بدسلوکی کیا یا ان کا سامان لُوٹ لیا۔

جرمن اخبار بلڈ ایم سنتاگ کو دیے گئے انٹرویو میں جرمن وزیرِ انصاف نے کہا کہ جب ایک گروپ اس قسم کے جرائم کرتا ہے تو انھیں کوئی بھی یہ نہیں قائل کر سکتا کہ یہ حملے باقاعدہ منصوبے کے تحت اور مربوط نہیں تھے۔

تاہم انھوں نے اپنے ان خیالات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔

جرمن حکام یہ بھی جاننے کے لیے کوشاں ہیں کہ آیا کولون میں تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کا تعلق دیگر شہروں میں پیش آنے والے ایسے واقعات سے ہے کہ نہیں۔

کولون کے علاوہ جرمنی کے شمالی ساحلی شہر ہیمبرگ اور سٹٹ گارٹ سے بھی سنہ 2015 کی آخری شب ایسے ہی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ہیمبرگ کی پولیس نے اس شب جنسی ہراس اور چوری کے 130 واقعات رپورٹ کیے جانے کی تصدیق کی ہے جبکہ بیلفیلڈ میں اس شب سینکڑوں مردوں نے زبردستی شبینہ کلبوں میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جنسی حملوں اور تشدد کے 516 معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے

خیال رہے کہ خواتین سے بدسلوکی کے ان واقعات کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے لیے قانون میں تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔

ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ایسے پناہ گزینوں کی ان کے آبائی وطن واپسی کا عمل آسان ہو جائے گا۔

اس نئے منصوبے کو جرمن پارلیمان کی منظوری درکار ہوگی اور اس کے تحت ایسے افراد جن کی جرائم پیشہ سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہو، انھیں بھی ملک بدر کیا جا سکے گا۔

سنیچر کو صحافیوں سے بات چیت میں انگیلا میرکل نے کہا تھا کہ ’جب جرائم ہوں گے اور لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھیں گے تو انھیں اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔‘

جرمنی کے موجودہ قانون کے مطابق کسی پناہ گزین کو صرف اسی وقت زبردستی واپس اس کے ملک بھیجا جا سکتا ہے کہ اگر اسے تین سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا ہو اور اگر اسے اپنے ملک میں جان کا خطرہ لاحق نہ ہو۔

اسی بارے میں