میکسیکو کا ’ال چیپو‘ کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گزمین کا گروہ کوکین، بھنگ، چرس اور دیگر منشیات امریکہ میں جہاز، زمین اور سمندر کے راستے سمگل کرتا رہا ہے

میکسیکو کے اٹارنی جنرل کے دفتر کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں کے گروہ کے سربراہ جوکوئین ’ال چیپو‘ گزمین کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

چھ ماہ تک مفرور رہنے والے گزمین کو جمعے کو ان کی آبائی ریاست سنالوا کے ساحلی شہر لاس موچس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

سنیچر کو میڈیا کے سامنے پیش کرنے کے بعد حکام نے انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے وسطی میکسیکو میں واقع الٹیپلانو نامی جیل منتقل کر دیا۔

یہ وہی جیل ہے جہاں سے گذشتہ جولائی میں وہ ڈیڑھ کلو میٹر لمبی سرنگ کے ذریعے فرار ہوئے تھے۔

میکسیکن حکام کا کہنا ہے کہ گزمین کی امریکی حکام کو حوالگی کا فیصلہ سنہ 2014 میں اس سلسلے میں امریکہ کی جانب سے درخواستوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔

ماضی میں امریکہ کی جانب سے جوکوئین گزمین کو ان کے حوالے کرنے کی درخواستیں مسترد کی جاتی رہی ہیں تاہم نامہ نگاروں کے مطابق ممکن ہے کہ اب میکسیکن حکام نے فیصلہ کر لیا ہو کہ گزمین کو ملک میں قید رکھنا محفوظ نہیں کیونکہ وہ اہلکاروں اور حکام کو خرید لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی محکمۂ خارجہ نے جوکوئین گزمین کی گرفتاری کی اطلاع دینے والے کے لیے 50 لاکھ ڈالر انعام مقرر کیا تھا

میکیسکن حکام کی جانب سے گزمین کی امریکہ کو حوالگی کے حوالے سے کوئی تاریخ نہیں دی گئی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اٹارنی جنرل کے دفتر کا کہنا ہے کہ گزمین کے وکلا کے پاس اس فیصلے پر اعتراض کرنے کے لیے تین دن اور انھیں ثابت کرنے کے لیے مزید 20 دن ہوں گے۔

ایک اندازے کے مطابق گزمین ایک ارب ڈالر کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

ان کا شمار دنیا کے مطلوب ترین منشیات فروشوں میں ہوتا ہے اور ان کا گروہ کوکین، بھنگ، چرس اور دیگر منشیات امریکہ میں جہاز، زمین اور سمندر کے راستے سمگل کرتا رہا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے جوکوئین گزمین کی گرفتاری کی اطلاع دینے والے کے لیے 50 لاکھ ڈالر انعام مقرر کیا تھا۔

خیال رہے کہ گزمین کو سنہ 1993 میں 20 سال کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا تھا تاہم وہ اس سے پہلے بھی آٹھ سال بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

وہ 13 سال تک فرار رہے اور انھیں سنہ 2014 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں