ہانگ کانگ: گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہانگ کانگ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کر رہے ہیں

ہانگ کانگ میں ہزاروں افراد نے پانچ کتب فروشوں کی گمشدگی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ گمشدہ افراد جس دکان میں کام کرتے تھے وہ چین کی حکومت کی مخالفت پر مبنی مواد بیچنے کے لیے مشہور ہے۔

شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان افراد کو چین میں قید کر کے رکھا گیا ہے۔

ہانگ کانگ: ’مظاہروں میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں‘

ہانگ کانگ: جمہوریت پسند مظاہرین کا احتجاج دوبارہ شروع

خیال رہے کہ ’ایک ملک دو نظام ‘ کے اصول کے تحت ہانگ کانگ کو کافی حد تک چین سے خود مختاری حاصل ہے۔

ہانگ کانگ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔

ایک حکومتی ترجمان کے بقول انھیں چین کی جانب سے جواب کا انتظار ہے۔

’سیاسی اغوا نامنظور‘ کے نعرے لگاتے ہوے ہزاروں مظاہرین نے ہانگ کانگ میں بیجنگ کے نمائندے کے دفاتر کی جانب مارچ کیا۔

جمہوریت پسند سیاستدان البرٹ چن کا بی بی سی سے بات کرتے ہوے کہنا تھا کہ ’ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ہانگ کانگ کے قانون کی اتنی واضح خلاف ورزی کی گئی ہو، یہ ایک ملک دو نظام کے اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں احتجاج کر رہے ہیں۔‘

ہانگ کانگ کے جمہوریت پسند سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو اغوا کر کے چین لے جایا گیا ہے۔

گمشدہ افراد میں سے چار گزشتہ برس اکتوبر میں لاپتہ ہوئے تھے جبکہ پانچواں شخص جس کا نام ’لی‘ بتایا جاتا ہے، برطانوی شہریت بھی رکھتا ہے اور سال کے آخری ایام سے لاپتہ ہے۔

حکومتِ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اسے لی کی گمشدگی پر گہری تشویش ہے اور چینی حکومت سے اس بارے میں معلومات فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔

اسی بارے میں