’پیرس حملہ آور پناہ گزینوں کے کیمپ میں رہائش پذیر تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ سال ہونے والے حملوں کے بعد سے فرانس میں ہائی الرٹ عائد ہے

جرمنی کی پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کو پیرس کے پولیس سٹیشن پر ناکام حملہ کرنے والا شخص جرمنی میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں رہ رہا تھا۔

خیال رہے کہ حملہ آور کو پولیس نے حملے کے دوران ہی ہلاک کر دیا تھا۔

چارلی ایبڈو حملے کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک اور حملہ

پولیس نے مغربی شہر ریکلنگ ہاؤزن میں عمارت کی تلاشی لی ہے لیکن انھیں وہاں مزید کسی حملے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ ان پناہ گزینوں میں شامل تھے یا نہیں جو سنہ 2015 کے دوران جرمنی آئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق انھیں ایک ڈکیتی کے معاملے میں فرانس میں سنہ 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کو چارلی ایبڈو واقعے کی سالگرہ پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

مشتبہ شخص کے پاس گوشت کاٹنے والا چھرا تھا اور وہ نقلی خودکش جیکٹ پہنے ہوئے تھے۔

ان کے بدن سے ایک کاغذ کا ٹکڑا ملا ہے جس میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے ’بیعت اور شام پر فرانسیسی حملے کے بدلے کی بات درج تھی۔‘

جرمنی کی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے کیمپ کے جس کمرے میں رہ رہے تھے وہاں دیوار پر دولت اسلامیہ کا نشان بنا ہوا تھا۔

Image caption تازہ ناکام حملہ جمعرات کو ہوا تھا

اس شخص کے اصل وطن کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ جرمنی کے ویلٹ ایم سونٹاگ اخبار کے مطابق ’فرانس اور جرمنی کے حکام کے مختلف رجسٹر میں اس حملہ آور کی مختلف شناخت ہے۔ کہیں وہ مراکش کے ہیں تو کہیں تیونس کے اور کہیں شام تو کہیں جارجیا کے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ دولت اسلامیہ کے مشتبہ جنگجو کا تعلق پناہ گزینوں سے نکلا ہو۔

اس سے قبل 14 نومبر کے پیرس حملوں کے دو خود کش حملہ آوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکتوبر میں یونان کے جزیرے لیروس پر اترے تھے اور وہاں سے دوسرے پناہ گزینوں کے ساتھ یورپی ممالک میں پھرتے رہے تھے۔

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ نے پناہ گزینوں اور دہشت گردی کے درمیان تعلق قائم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ یورپ میں پناہ گزینوں کے خلاف دشمنی پنپے۔

بہر حال ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا جمعرات کو کیا جانے والا حملہ عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے رہنماؤں کے تعاون کے ساتھ کیا گیا تھا یا نہیں؟

اسی بارے میں