’ال چیپو‘ کے انٹرویو پر شان پین زیرِ تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گزمین اور شون پین کی ملاقات بظاہر میکسیکو کی اداکارہ کیٹ ڈل کاسٹیلو نے کروائی تھی

امریکی انتظامیہ نے ہالی وڈ کے اداکار شان پین کی جانب سے میکسیکو کے منشیات فروشوں کے بدنامِ زمانہ گروپ کے سربراہ جوکوئن ’ال چیپو‘ گزمین کے انٹرویو پر کڑی تنقید کی ہے۔

یہ انٹرویو گذشتہ برس گزمین کے میکسیکو کی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات والی جیل سے فرار کے بعد اکتوبر میں میکسیکو کے ہی ایک جنگل میں کیا گیا تھا اور اسے رولنگ سٹون نامی رسالے نے شائع کیا ہے۔

میکسیکو کا گزمین کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ

چھ ماہ تک مفرور رہنے والے 58 سالہ گزمین کو جمعے کو ان کی آبائی ریاست سنالوا کے ساحلی شہر لاس موچس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ہالی وڈ کے فنکار کی جانب سے لیا جانے والا یہ ’نام نہاد انٹرویو‘ پاگل کر دینے والا تھا۔

میکسیکو کے حکام کا کہنا ہے کہ گزمین تک پہنچنے میں ان کی مدد شان پین کی اس خفیہ ملاقات نے بھی کی۔

رولنگ سٹون میگزین کے مطابق شان پین اور گزمین میں ہونے والی سات گھنٹے طویل ملاقات میں منشیات کی سمگلنگ سمیت مختلف موضوعات پر بات کی گئی تھی۔

اس انٹرویو میں گزمین نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دنیا میں ہیروئن، کوکین اور گانجے سمیت مختلف منشیات کے سب سے بڑے فراہم کنندہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر میں نہ بھی رہا تو منشیات فروشی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چھ ماہ تک مفرور رہنے والے 58 سالہ گزمین کو جمعے کو گرفتار کیا گیا ہے

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اگر دنیا میں منشیات کی طلب نہیں ہوگی تو منشیات فروشی خود بخود ختم ہو جائے گی۔‘

وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف ڈینس میکڈونوہ نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک چیز جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ (گزمین کے) یہ دعوے کہ وہ امریکہ سمیت دنیا بھر میں کتنی ہیروئن بھیجتا ہے پاگل کر دینے والے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق میکسیکو کے حکام ایک مفرور مجرم کے بارے میں اطلاع نہ دینے پر شان پین اور میکسیکو کی اداکارہ کیٹ ڈل کاسٹیلو کے خلاف تحقیقات کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔

گزمین اور شان پین کی ملاقات بظاہر اداکارہ کیٹ کاسٹیلو نے ہی کروائی تھی۔

تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے صحافیوں سے بات چیت میں اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا امریکہ شان پین کو تحقیقات کے لیے میکسیکن حکام کے حوالے کرے گا یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں شان پین سمیت اس انٹرویو یا اس کے انتظام میں ملوث افراد سے پوچھے جانے کے لیے بہت سے دلچسپ سوالات موجود ہیں، اس لیے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں