اب ’منشیات کا بادشاہ‘ کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ DEA

اب جبکہ دنیا کے انتہائی مطلوب منشیات فروشوں کے گروہ کے سربراہ ہواکِن ’ال چیپو‘ گُسمان کو حراست میں لے لیا گیا اور میکسیکو اسے امریکہ کے حوالے کرنے جا رہا ہے۔

امریکہ کے انسداد منشیات کے محکمے کو اب دو افراد کی تلاش ہے جو مفرور ہیں۔ منشیات کی دنیا کے ان دو بڑے کرداروں میں سے ایک کردار ایک ایسی پُرسرار خاتون ہے جس کے بارے میں شاید کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں۔

’ال چیپو‘ کے انٹرویو پر شان پین زیرِ تنقید

میکسیکو کا ’ال چیپو‘ کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ

اس خاتون کی پیدائش کولمبیا کی ہے تاہم کولمبیا میں نہ تو اس کے خلاف کبھی کوئی وارنٹ نکلا ہے اور نہ ہی اس کا نام مطلوب افراد کی کسی فہرست میں شامل ہے۔

امریکی محکمۂ انسداد منشیات (ڈی ای اے) کے مطابق مذکورہ خاتون کا نام ’ماریا ٹریسا اسوریو ڈی سرنا‘ ہے اور محکمہ چاہتا ہے کہ جلد از جلد اس خاتون کو کالے دھن کو سفید کرنے (منی لانڈرنگ) اور کوکین کی بین الاقوامی سمگلنگ کے الزامات میں گرفتار کر لیا جائے۔

ہر کوئی کہتا ہے کہ اسوریو ڈی سرنا منشیات کے ’مڈیلن‘ نامی گروہ کے لیے کام کرتی رہی ہے ، لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس بڑے گروہ کے کرتا دھرتا افراد میں سے اسوریو کا باس کون تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اسوریا بہت بڑی بڑی رقوم یہاں سے وہاں پہنچا چکی ہے۔

محکمۂ انسداد منشیات کے مطابق اسوریو ڈی سرنا کے کم از کم چار فرضی نام ہیں جن میں سے کوئی بھی درست ہو سکتا ہے۔ کبھی خاتون کا نام ماریا ٹریسا کوریا، کبھی ماریا ٹریسا ڈی سرنا، کبھی گلوریا بدویا اور کبھی آئریس کونڈی سامنے آتا ہے۔

بے ربط معلومات

اگرچہ امریکی محکمۂ انسداد منشیات یہ بتاتا ہے کہ مذکورہ مفرور ایک خاتون ہے، جس کے چار مختلف نام ہیں، لیکن محکمے کے پاس اس کے بارے میں جو باقی معلومات ہیں ان میں کوئی زیادہ ربط دکھائی نہیں دیتا۔

ادارے کے بین الاقوامی شعبے کا کہنا ہے کہ مفرور خاتون کا قد 1.52 میٹر، وزن 61 کلوگرام اور بال سیاہ ہیں، اس کی پیدائش سنہ 1950 کی ہے اور اس کے آخری رہائشی پتے کے مطابق وہ کولمبیا میں رہتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہواکن ال چیپو گسمان کی گرفتاری کے بعد محکمۂ انسداد منشیات کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح اسوریو ڈی سرنا تک پہنچا جائے

تاہم محکمے کے ریاست نیو جرسی کے دفتر کے مطابق مذکورہ خاتون کا قد 1.52 میٹر نہیں بلکہ 1.57 میٹر ہے، وزن 11 کلوگرام زیادہ اور بال سیاہ نہیں بلکہ بھُورے ہیں۔ اس کے علاوہ نیو جرسی دفتر کا خیال یہ بھی ہے کہ خاتون کی پیدائش 1945 اور 1950 کے درمیان کی ہے اور اس کا آخری پتہ کولمبیا نہیں بلکہ امریکی ریاست میامی کے ایک قصبے کا ہے۔ دفتر کا مزید کہنا ہے کہ انھیں معلوم نہیں کہ آیا خاتون کے پاس ہر وقت کوئی ہتھیار ہوتا ہے یا نہیں اور آیا وہ خطرناک بھی ہے یا نہیں۔ اس پراسرار خاتون کے بارے میں امریکی محکموں کے پاس مزید کوئی معلومات نہیں۔

دوسری جانب کولمبیا کے عدالتی نظام اور انسدادِ جرائم کے اداروں سے منسلک ایک ماہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ بات کسی معمے سے کم نہیں کہ ان کے ملک میں جہاں ہر مجرم دوسرے مجرم کو جانتا ہے، آج تک ایسا کوئی شخص سامنے نہیں آیا جو ہمیں بتا سکے کہ آیا یہ خاتون ہے کون۔ لیکن اب جب میکسیکو کے حکام نے گسمان کو پکڑ لیا ہے، امریکہ کے انسداد منشیات کے افسران کی ایک ہی فکر ہے کہ کسی طرح اس چھلاوہ نما خاتون کا کھوج لگایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEA
Image caption ٹامسن تصویر میں سوٹ اور عینک پہنے ہوئے ایک کاروباری شخص کے طور پر دکھائی دیتا ہے

اس خاتون کے علاوہ منشیات کے جس دوسرے بڑے مجرم کی تلاش جاری ہے، اس کا نام جان الیگزینڈر ٹامسن ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق افریقہ یا جزائر غرب الہند سے ہے اور وہ ہیروئن کا بہت بڑا سمگلر ہے۔

ٹامسن کے بارے میں بھی حکام کے پاس معلومات بہت کم ہیں اور امریکہ بھر میں انسداد منشیات کے کسی دفتر میں بھی اس کا نام انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل نہیں ہے اور جہاں تک محمکے کے بین الاقوامی شعبے کا تعلق ہے تو ان کے ہاں ٹامسن کی ایک تصویر موجود ہے جس میں وہ سوٹ اور عینک پہنے ہوئے ایک کاروباری شخص کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ٹامسن بھاری بھرکم جسم کا مالک ہے اور اس کا وزن سو کلوگرام کے لگ بھگ ہے جبکہ قد 1.78 لے کر 1.88 میٹر تک ہے۔

اسی بارے میں