چی گویرا کا گھر اب ’کائٹ سرفنگ‘ کی جنت

کیوبا کا ساحلی علاقہ تارارا جہاں کبھی انقلابی رہنما چی گویرا نے یادگار دن گزارے تھے اب کائٹ سرفنگ کا مرکز بن رہا ہے۔

کیوبا میں انقلابیوں کے اقتدار میں آتے ہی چی گویرا کو دمے کا مرض لاحق ہو گیا۔

اس مرض سے صحت یاب ہونے کے لیے وہ داراحکومت ہوانا سے ساحلی مقام تارارا منتقل ہو گئے تھے۔

یہ علاقہ کبھی کیوبا کی اشرافیہ کا پسندیدہ مقام ہوتا تھا اور یہاں چی بیماری کے علاوہ ہنی مون کے لیے بھی آئے تھے۔

یہ علاقہ صاف شفاف پانیوں، تازہ ہوا اور دوسری علاقوں سے منفرد موسم کی وجہ سے مہینوں تک جنگلیوں میں چھاپہ مار کارروائی کی وجہ سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل سے سنبھلنے کے لیے موزوں تھا۔

تاہم چی گویرا زیادہ آرام نہیں کرتے تھے اور رات گئے تک اپنی ساتھیوں سے طویل ملاقاتیں کرتے تھے۔

اب بھی چی کی بیوی آئلائیڈا مارچ اپنی سوانح حیات میں تارارا میں گزرے گئے چند ہفتوں کو خوشگوار انداز میں یاد کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ copyright ALAMY

’ہم اس گھر میں صرف دو ماہ تک ہی رہے، اگرچہ وہ ٹھیک طرح سے ہمارا گھر نہیں بن سکا، میں اس وقت کی یادوں سے خوش ہوں‘۔

یہاں چی گویرا اور ان کی بیوی آئلائیڈا چند ماہ بعد دوبارہ ہنی مون کے لیے آئے تھے۔

1940 سے 1950 میں آباد ہونے والے تارارا سیاحتی مقام شروع میں آمر بتیستا کے دور میں کیوبا کی امیر خاندانوں اور فوجی اشرافیہ کا پسندیدہ مقام ہوا کرتا تھا اور حقیقت میں چی گویرا نے یہاں جس مکان میں قیام کیا تھا وہ کسٹم حکام کے استعمال میں ہوتا تھا۔

جب کیوبا میں فیڈل کاسترو نے اقتدار حاصل کیا تو یہاں کے زیادہ تر رہائشی جلاوطن ہو گئے۔

آج بھی تارارا میں 500 سو مکانات حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور بہت ساروں کو دیکھنے سے ایسے لگتا ہے کہ یہاں 1959 کے بعد وقت رک کر رہ گیا ہو۔

لیکن اب تارارا میں گاڑی پر سفر کریں تو دنیا بھر سے کائٹ سرفنگ کے شوقین آپ کو نظر آئیں گے کیونکہ اس چھوٹے سے ساحلی علاقے میں چلنے والی ہوا پانیوں کی کھیلوں کے لیے موزوں ترین ہے۔

تارارا کی واٹر سپورٹس کے لیے اہمیت کو سامنے لانے والے 40 سالہ اطالوی شہری میٹیو گاٹی کے مطابق کیوبا، خاص کر تارارا میں، کائٹ سرفنگ کے لیے موزوں ترین تک حالات ہیں۔

’ہم چاہتے ہیں کہ اسے سپورٹس ویلیج، ( کھیلوں کا مقام) بنا دیں جہاں لوگ کائٹ سرفنگ، پیڈل بورڈنگ، ویک بورڈنگ، یوگا اور سائیکلنگ کے لیے آئیں۔‘

میٹیو گاٹی نے تارارا میں کھیلوں کو فروغ دینے کے وقت کا درست انتخاب کیا ہے کیونکہ کیوبا غیر ملکی سرمایہ کاروں، خاص کر سیاحت میں سرمایہ کاری کے لیے اپنے دروازے آہستہ آہستہ کھول رہا ہے لیکن میٹیو کو تارارا میں اپنا کاروبار شروع کرنے میں بیوروکریسی کی کئی رکاوٹوں کا عبور کرنا پڑا۔

میٹیو نے تارارا میں واٹر سپورٹس کا کاروبار شروع کرنے سے پہلے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا:’ہمیں حکومت کی اجازت ملی کیونکہ میں نے کیوبا کے لوگ ملازمت پر رکھے، تربیت دینے والے بھی کیوبا کے شہری ہی تھے۔‘

میٹیو گاٹی کے مطابق آئندہ برس وہ یہاں کائٹ سرفنگ کا بین الاقوامی مقابلہ منعقد کرا رہے ہیں۔

اسی بارے میں