عراق بم دھماکوں میں 40 سے زائد ہلاکتیں

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بغداد میں شیعہ اکثریت والے علاقوں کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے

عراق میں سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے دارالحکومت بغداد کے ایک شاپنگ سینٹر پر حملہ کر کے کم سے کم 17 افراد کو ہلاک کر دیا جبکہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

حکام کے مطابق اس سے پہلے اس عمارت کے باہر مارکیٹ میں ایک کار بم دھماکہ ہوا۔ اور اس کے بعد مسلح حملہ آور گولیاں برساتے شاپنگ سینٹر میں داخل ہو گئے اور وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا۔جب سکیورٹی فورسز نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو دو حملہ آور جنھوں نے خود کش بیلٹیں پہنی ہوئی تھیں خود کو اڑا لیا۔

یہ حملہ شیعہ آبادی کے ڈسٹرکٹ میں واقع الجوہرہ شاپنگ سینٹر پر پر کیا گیا۔

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق شاپنگ سینٹر میں کم سے کم 75 افراد موجود تھے۔

اسی دوران شمالی بغداد میں دو بم دھماکے ہوئے جن میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دارالحکومت سے 80 کلومیٹر دور مقدادیہ نامی گاؤں میں چائے کی دکان پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔

بعدازاں پانچ شہری جنوبی بغداد میں کار بم دھماکے میں ہلاک ہوئے۔

تاہم دولتِ اسلامیہ نے ایک آن لائن بیان میں کہا ہے کہ بغداد کے شاپنگ سینٹر پر حملہ اس نے کروایا ہے۔ یہ سنی جہادی گروہ شمالی اور مغربی عراق کے بہت سے علاقوں پر قابض ہے اور یہ شیعہ مسلک کے لیے ’دھتکارے گئے ملحد‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں پولیس اورطبی عملے نے بتایا ہے کہ شاپنگ سینٹر کے باہر ہونے والے کار بم دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت سات شہری ہلاک ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید پانچ افراد شدت پسندوں کے عمارت میں داخل ہونے کے بعد ہلاک ہوئے جبکہ چھ افراد تب ہلاک ہوئے جب دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا تھا۔

روئٹرز نے وزارتِ داخلہ کے ترجمان برگیڈیئر جنرل سعد مان کے حوالے سے کہا ہے کہ انھوں نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ شاپنگ سینٹر میں موجود لوگوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب وزارت داخلہ ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شاید بہت سے حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں تاہم یہ بیان پولیس ذرائع کے بیان برعکس ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چار حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں