ضرورت پڑی تو اسد کو پناہ دے سکتےہیں: پوتن

بشار الاسد اور ولادمیر پیوتن تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روسی صدر نے کہا کہ بشار الاسد کو پناہ دینا ایڈورڈ سنوڈن کو پناہ دینے سے زیادہ مشکل نہیں ہو گا

روسی صدر ولادمیر پوتن نے کہا ہے کہ وہ اپنے دیرینہ اتحادی بشار الاسد کو سیاسی پناہ دینے کا امکان رد نہیں کر رہے ہیں۔

جرمنی کے اخبار بلڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، جس میں نیا آئین بھی شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر اگلے انتخابات جمہوری ہوں گے تو مسٹر اسد کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں، چاہے وہ صدر منتخب ہوتے ہیں یا نہیں۔‘

لیکن اگر وہ ہار جاتے ہیں تو پوتن انھیں سیاسی پناہ دے سکتے ہیں۔

امریکہ کے ایڈورڈ سنوڈن کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سنوڈن کو سیاسی پناہ دی۔ وہ اسد کو پناہ دینے سے زیادہ مشکل تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ شام میں مقصد آئینی اصلاحات لانا ہے۔ ’یہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔‘

’اس کے بعد جلد نئے آئین کے تحت صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہونے چاہیں۔ اس کا فیصلہ شامی عوام کو ہی کرنا ہے کہ ان کا ملک کون اور کیسے چلائے۔

’استحکام اور سکیورٹی اور اقتصادی ترقی اور خوشحالی لانے کا صرف یہی واحد طریقہ ہے، تاکہ لوگ یورپ بھاگنے کی بجائے اپنے گھروں، اور اپنے ملک میں رہ سکیں۔‘

صدر پوتن نے ستمبر میں صدر اسد کی فوج کی حمایت کے لیے جنگ زدہ ملک میں بمباری کی مہم شروع کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ مسٹر اسد نے 2011 میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے کافی غلطیاں کی ہیں لیکن لڑائی اتنی حد تک نہ بڑھتی اگر اس کی حمایت بیرون ممالک کے پیسے، اسلحے اور جنگجوؤں سے نہ کی جاتی۔ بدقسمتی سے اس طرح کے تنازعات کا شکار عام شہری بنتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ بشار الاسد کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ اپنے ملک کی آبادی کو تباہ کر دیں۔ ’وہ ان کے خلاف لڑ رہے ہیں جو مہلک فورس کے ساتھ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہیں۔‘

صدر پوتن نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ شام میں لیبیا اور عراق کی مثال دہرائی جائے۔

’میرے خیال میں خطے کے ممالک میں جائز حکومتوں کو مضبوط کرنے کے لیے ہر طرح کی کوششیں کرنا چاہیئں۔ ’اس کا نفاذ شام پر بھی ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں