فرانس میں یہودی رہنماؤں میں ٹوپی پہننے پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زوی عمارنے یہودیوں سے کہا کہ وہ کپا نہ پہنیں تاکہ ان کی بطور یہودی شناخت نہ ہو سکے

فرانس کے شہر مارسیلی میں یہودیوں کے مرکزی رہنما نے اہلِ مذہب سے کہا ہے کہ وہ مخصوص مذہبی ٹوپی ’ کپا‘ کو پہننا چھوڑ دیں۔

زوی عمار جو کہ مارسیلی میں یہودیوں کے مشاورتی مرکز کے سربراہ ہیں کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی حفاظت کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم فرانس میں یہودیوں کے دینی عالم یعنی ربّی نے’ کپا‘ پہنے رکھنے کی ترغیب کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز ایک لڑکے نے یہودی استاد پر حملہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے کہنے پر کیا تھا۔

پیر کو بینجمن امسیلیم پر اس وقت خنجر سے حملہ کیا گیا جب انھوں نے سر پر یہودیوں کی مخصوص ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ ان کا ہاتھ اور کندھا اس حملے میں زخمی ہوا۔

خیال رہے کہ پیرس میں ہی دو ماہ پہلے دولتِ اسلامیہ کے حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

فرانسیسی اخبار سے گفتگو میں زوی عمارنے یہودیوں سے کہا کہ وہ کپا نہ پہنیں تاکہ ان کی بطور یہودی شناخت نہ ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 میں ایک جمہوری ملک میں ہمارے لیے یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے اور اس کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدمات کرنے ہوگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بینجمن امسیلیم نے کہا ہے کہ انھیں محسوس ہوا کہ حملہ آور ان کی گردن اڑانا چاہتا تھا

تاہم فرانس میں یہودی عالموں کے سربراہ کا بیان اس کے برعکس ہے۔ انھوں نے یہودیوں سے کہا ہے کہ وہ زوی عمار کے مشورے پر عمل نہ کریں۔

انھوں نے کہا ہے کہ یہودی اور ان کے سر کی ٹوپی تشدد کی ذمہ دار نہیں۔

خیال رہے کہ یورپ میں پیرس اور لندن کے بعد مارسیلی تیسرا بڑا شہر ہے جہاں یہودیوں کی اکثریتی آبادی ہے۔ تاہم اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں یہودی مکینوں پر یہ تیسرا بڑا حملہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ برس نومبر میں ایک یہودی استاد پر تین افراد نے حملہ کیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ سال اکتوبر میں بھی تین یہودیوں پر حملہ کیا گیا تھا۔

دن کے وقت 35 سالہ استاد امسیلیم پر 15 سالہ لڑکے نے حملہ کیا جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وکیل کا کہنا ہے کہ حملے کا شکار ہونے والے استاد نے بتایا ہے کہ ’مجھے محسوس ہوا کہ حملہ آور میری گردن اڑانا چاہتا تھا۔‘

اپنے میڈیا بیان میں استاد نے کہا کہ یہ حملہ ناقابلِ تصور تھا۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے اس حملے کو ناجائز اور بہت برا قرار دیا ہے جب کہ ملک کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ یہود مخالف جارحانہ اور نفرت انگیز حملہ ہے۔

چارلی ہیبڈو میگزین کے دفتر پر حملے کے بعد چار یہودیوں کو کوشر مارکیٹ میں دولتِ اسلامیہ کے حامیوں نے ہلاک کیا تھا۔

تب سے اب تک فرانس میں یہودیوں کی 700 عبادت گاہوں، سکولوں اور کمیونٹی سینٹرز کی حفاظت پر پولیس یا سپاہیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں