سعودی ایران کشیدگی کا اثر عراق پر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شیعہ عالم نمر النمر کی موت کے خلاف عراق میں احتجاجی مظاہرے ہوئے

سعودی عرب میں ممتاز شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر کو سزائے موت دیے جانے کے چند گھنٹوں بعد عراق میں شیعہ مسلمانوں کی اعلیٰ قیادت نے موت کی سزا کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس نے’ پاک خون بہانا‘ قرار دیا۔

عراق کے سب سے سینیئر شیعہ رہنما آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی نے نمر النمر کی موت پر اپنے بیان میں کہا’وہ شہید ہیں اور ان کی روح کو سکون ملے۔‘

’سعودی عرب کی بےپروا شدت پسندی‘

’ایران کو خطے کے شیعوں کے لیے آواز اٹھانے کا حق نہیں‘

بہت سارے شیعہ مسلمانوں کے نزدیک شیخ نمر سعودی عرب میں بادشاہت مخالف مظاہروں کی کھل کی حمایت کرنے پر ایک مزاحمتی علامت تھے۔

دو جنوری کو شیخ نمر النمر اور دیگر 46 افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد بغداد کی گلیوں میں ہزاروں افراد نکل آئے۔

عراق میں 2006 اور 2007 میں شیعہ اور سنّی مسلمانوں کے درمیان ہونے والی تباہ کن خانہ جنگی اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے اور اب شیخ نمر النمر کو سزائے موت کے بعد عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

شیخ نمر کی موت کے بعد عراق میں مشتعل افراد نے سنیّوں کی دو مساجد پر حملے کر کے دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عراق کی نمایاں شیعہ قیادت سعودی عرب کے بارے میں پائی جانے والی نفرت کا کھلے عام اظہار کرتی ہے۔

وہ خاص طور پر سعودی عرب میں اسلام کی سخت گیر شکل پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں سعودی عرب میں نافذ اسلام القاعدہ اور خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم کے شدت پسند نظریات کا منبہ ہے۔

شیعہ حزب اللہ بریگیڈ ملیشیا کے ترجمان جعفر الحسینی کا کہنا ہے کہ’ یہ سنّی شدت پسندوں کے ساتھ نظریاتی جنگ ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے ہمیں لڑنا ہو گا۔‘

ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا عراق میں موجود متعدد ملیشیا گروپوں میں سے ایک ہے اور ان میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ رضاکار موجود ہیں۔

ان میں سے اکثریت شیعوں کی ہے اور انھیں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

شیعہ ملیشیا کی ایک بڑی طاقت عراق میں زمینی فورس کی ایک کامیاب مثال بن چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی وزیراعظم حیدر العبادی سنّیوں کو اپنے سے دور نہیں کرنا چاہتے ہیں

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے ان گروپوں پر حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے باوجود شیعہ مسلمانوں میں یہ گروہ بہت مقبول ہیں۔

ملیشیا کے ترجمان الحسینی نے فیصلہ کن انداز میں کہا ہے کہ’ ہمارے سعودی عرب کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہیں ہونے چاہیے۔‘

سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کو مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔

عراقی وزیراعظم ایران کے سٹریٹیجک اتحادی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ برس تجارت18 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

بغداد کی النحرین یونیورسٹی میں قومی سلامتی سے متعلق امور کے پروفیسر حسین علوی کا کہنا ہے کہ’ وزیراعظم البعادی اس وقت بے حد محتاط ہیں۔‘

’انھوں نے تہران میں اپنے وزیر خارجہ کو بھیجا تھا اور وہاں ثالثی کی پیشکش کی گئی جس سے وہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے میں غیر جانبدار ثالت کے طور پر نظر آئیں۔ عراق کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ہمسایہ ممالک کا تعاون درکار ہے اور وہ نہیں چاہتا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان درپردہ جنگ کا میدان جنگ بن جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نمر النمر کو عراقی ملیشیا میں خاصی مقبولیت حاصل تھی

’وہ سنّیوں کو اپنے سے دور نہیں کرنا چاہیے اور ضرورت ہے کہ وہ سنّی اویکننگ کونسل کو مضبوط کرنے پر کاربند رہیں۔‘

سال 2007 میں امریکہ نے سنّی قبائلیوں کی مدد سے ملیشیا قائم کی تھی اور اس کو اویکننگ کونسلز کہا جاتا ہے۔ اس ملیشیا نے صوبہ انبار اور دیگر علاقوں میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کی تھی۔

انھوں نے اس وقت شیعہ اکثریتی نورالمالکی کی حکومت کی طرف سے القاعدہ کے خلاف لڑنے کے لیے اس ملیشیا کو ہتھیار فراہم کیے اور انھیں تنخواہیں دی۔

صوبہ انبار میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف قبائلی ملیشیا کے ترجمان غسان الحتاوی کے خیال میں وزیراعظم نورالمالکی کی ایران سعودی تنازع سے نمٹنے کے طریقہ کار کی وجہ سے انھیں کی سنّیوں میں وسیع حمایت حاصل ہو گی۔

انھوں نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ جیت جائیں گے تو صوبہ انبار میں تعمیرِ نو کے عمل میں سعودی عرب کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ’دولتِِ اسلامیہ فرقہ واریت کو اچھی طرح استعمال کرتا ہے۔‘

اسی بارے میں