جنوبی سوڈان کے نصف سے زائد بچے تعلیم سے محروم

Image caption جب سے جنگ شروع ہوئی تب سے 800 سکول تباہ ہو چکے ہیں اور چار لاکھ سے زائد بچے اپنے کلاس رومز سے محروم ہو چکے ہیں

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان کے نصف سے زائد بچے ایسے ہیں جو سکول نہیں جاتے اور یہ دنیا کے کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ بڑی تعداد ہے۔

اگرچہ حکومت اور باغیوں کے درمیان معاہدہ ہو چکا تھا مگر پھر بھی گذشتہ دو سال سے حکومتی افواج باغیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

نائجر کا نمبر دوسرا ہے جہاں کے 47 فیصد بچے سکول نہیں جا پاتے۔ اس کے بعد سوڈان کا نمبر آتا ہے جہاں یہ تناسب 41 فیصد ہے جبکہ افغانستان کے 40 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ ممالک میں دس کروڑ 90 لاکھ بچے ہیں جن میں سے دو کروڑ 40 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔

لڑائی کے آغاز سے پہلے بھی جنوبی سوڈان کے 14 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے تھے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ جب سے جنگ شروع ہوئی تب سے 800 سکول تباہ ہو چکے ہیں اور چار لاکھ سے زائد بچے اپنے کلاس رومز سے محروم ہو چکے ہیں۔

جنوبی سوڈان میں تعلیم کے لیے یونیسف کی سربراہ کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان کہ ہر دس میں سے صرف ایک بچہ اپنی پرائمری تعلیم حاصل کر پاتا ہے اور یہاں تعلیم کے لیے بجٹ بھی بہت کم ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے ملکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنہ 2011 میں سوڈان کی آزادی کے بعد سکولوں میں بچوں کے داخلے میں 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے تاہم سکولوں کی تعمیر نہ ہونے اور قابل اساتذہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے تعلیم کی شرح میں اضافہ نہیں ہو پا رہا۔

اسی بارے میں