’اطالوی فوجی مقدمے کی سماعت کے لیے بھارت نہیں جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لتوری اور ان کے ساتھ فوجی سلواتوری گیرونی پر دو بھارتی ماہی گیروں کے قتل کا الزام ہے

اٹلی کے سینیٹر کا کہنا ہے کہ بھارتی ماہی گیروں کے قتل کے مقدمے کے ملزم اطالوی فوجی مقدمے کی سماعت کے لیے بھارت نہیں جائیں گے۔

اطالوی فوجی میسیمیلیانو لتوری پر سنہ 2012 میں دو بھارتی ماہی گیروں کے قتل کا الزام ہے اور انھیں خراب صحت کے پیش نظر مزید اٹلی میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔

گذشتہ سال ایک بھارتی عدالت نے میسیمیلیانوں لتوری کو دل کے آپریشن کے بعد کچھ عرصے کے لیے اٹلی جانے کی اجازت دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق جمعے کو ان کی بھارت واپسی متوقع تھی۔

لتوری اور ان کے ساتھ فوجی سلواتوری گیرونی پر دو بھارتی ماہی گیروں کے قتل کا الزام ہے اور دونوں کی ضمانت پر رہائي کی عرضی عدالت میں شنوائی کے لیے پڑی ہے۔

اطالوی ذرائع ابلاغ کے مطابق اٹلی کی سینیٹ ڈیفنس کمیٹی کے صدر نیکولا لتوری کا کہنا ہے کہ ’میسیمیلیانوں لتوری بھارت واپس نہیں جائیں گے، اور اس کے علاوہ سلواتوری گیرونی کی واپسی کے بارے میں بھی بات کیے جانے کا امکان ہے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز نے جب اٹلی کے وزیر اعظم کے دفتر اور وزارت خارجہ سے سینیٹر کے بیان کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے نہ تو اس کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی۔

یاد رہے کہ یہ فوجی بھارت کے جنوبی ساحل کیرالہ میں اٹلی کے ایک تیل بردار جہاز کی نگرانی پر مامور تھے جب انھوں فائرنگ کی جس میں دو لوگ ہلاک ہو گئے۔

بھارت نے ملزمان کی سزائے موت کو خارج کر دیا تھا جبکہ ان کے خلاف قزاقی کے قوانین کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔

اٹلی کا ہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے کہ چونکہ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندر میں ہوا ہے اس لیے اس سلسلے کی عدالتی کارروائی اٹلی میں ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں