عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں عارضی طور پر ’ریکارڈ گراوٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اگر قیمتیں ایسے ہی کم ہوتی رہیں تو ملک کو ’بدترین اقتصادی صورتحال‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے: روسی وزیرِ اعظم

عالمی منڈی میں تیل کی فی بیرل قیمت عارضی طور پر گذشتہ 12 سال کے دوران سب سے کم ترین سطح پر دیکھی گئی۔

بدھ کو تیل کی فی بیرل قیمت 30 ڈالر سے بھی کم ہو گئی تاہم اب یہ قیمت دوبارہ بڑھ ہو رہی ہے۔

برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 29 اعشاریہ نو چھ پر پہنچی تاہم پھر دوبارہ 30 اعشاریہ دو دو پر چلی گئی۔

خیل رہے کہ گذشتہ 15 ماہ میں تیل کی قیمتوں میں 70 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس سے قبل روس کے وزیر اعظم دیمتری میدویدیو نے متنبہ کیا تھا کہ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے روس کو رواں برس اپنے بجٹ پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں ایسے ہی کم ہوتی رہیں تو ملک کو ’بدترین اقتصادی صورت حال‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

روسی حکومت کی آمدن کا آدھے سے زیادہ حصہ تیل اور گیس پر ٹیکس سے حاصل ہوتا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں روس کا سنہ 2016 کے لیے وفاقی بجٹ تیل کی قیمت 50 ڈالر فی بیرل کی بنیاد پر منظور ہوا تھا جس کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتن کا کہنا تھا کہ یہ ’غیر حقیقی‘ ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سرکاری اداروں کو گذشتہ سال کی پالیسی کے تحت اپنے اخراجات میں دس فیصد کمی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اخراجات میں اس کمی کے ذریعے سرکاری ملازمین کی پینشن اور تنخواہوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔

روس کے وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ روسی بجٹ کو صرف 82 ڈالر فی بیرل پر ہی متوازن کیا جا سکتا ہے۔

ادھر وزیر اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ روس کو پہلے ہی اشیا کی کم قیمتوں کا سامنا ہے جن میں تیل کی قیمت 15 یا 20 ڈالر فی بیرل ہے۔

اسی بارے میں