اٹلی میں مافیا کو پکڑنے والوں کی پراسرار زندگی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ان سپیشل پولیس والوں کو اپنی شناخت چھپانی پڑتی ہے

مافیا اٹلی کے جزیرے سسلی کے باشندوں کی زندگیوں کا نسلوں سے ایک حصہ رہے ہیں اور پولیس کی جانب سے مافیا کے رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے مستقل جنگ رہی ہے۔اور جو اہم یونٹ اس کے پیچھے پڑا رہتا ہے کتورینڈی کہلاتا ہے جس سے مُراد ہے ’پکڑنے والے۔‘

اِن میں سے ایک افسر نے میکس پیراڈیزو سے اُس پراسرار دنیا جس میں وہ کام کرتے ہیں کے متعلق بتایا اور بتایا کہ جب تک اُن کی دوست نے ٹی وی پر اُن کی پشت دیکھ کر اُن کی اصلیت نہیں جان گئیں تب تک کس طرح انھوں نے اپنی نوکری کے متعلق اپنی دوست سے چُھپایا۔

آپ کیتوریندی کے کسی رُکن کو اس وقت تک نہیں دیکھ سکتے جب تک وہ کسی مافیا کو گرفتار نہ کرے۔’وہ بغیر نام اور بغیر چہرے کے لوگ ہوتے ہیں۔‘ جب وہ مافیا کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں تو وہ ایک نقاب والی ٹوپی پہنتے ہیں تاکہ وہ اپنی شناخت مخفی رکھ سکیں۔

آئی ایم ڈی کے مطابق ’ہم شیروں کا جتھا کہلانا پسند کرتے ہیں کیوں کہ اصل میں ہم یہی ہیں، بالکل آزاد اور اس جنگل میں کسی بھی وقت حملہ کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔‘

یہ تعداد میں 20 سے کم ہیں اور اس بات کی کوئی واضح وجہ نہیں ہے کہ یہ کیوں گم نام رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جیوونی بریسکا کو سنہ 1996 میں گرفتار کیا گیا تھا

انھوں نے بتایا ’ کچھ عرصے بعد آپ کو جرائم پشہ عناصر کی جانب سے قتل کی دھمکیاں موصول ہوں گی بکری کے سر آپ کے گھر براہ راست بھیجے جائیں گے۔‘

90 کی دہائی میں ایک سُرخ دائرے کے نشان والی اُن کی کار کی نمبر پلیٹ کی تصاویر اُن کو موصول ہوئی تھیں۔ اُن کے کچھ ساتھیوں کو کیتوریندی چھوڑنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں لیکن آئی ایم ڈی کو نہیں ہوئیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے قتل کے خطرات کم ہوتے گئے۔

وہ اور اُن کے ساتھی اکثر جن مجرموں کی کھوج میں ہوتے ہیں اُن کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کرلیتے ہیں۔ وہ انھیں گرفتار کرنے سے دہائیوں پہلے کسی تار یا ٹیلی فون کے ذریعے اُن کی جاسوسی کرسکتے ہیں۔

آئی ایم ڈی کہتے ہیں ’یہ اِن لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنے جیسا ہے۔ آپ اُن کو اُن کے بچوں کے ساتھ بات چیت کرتے سُن سکتے ہیں، آپ اُن کے خاندانی مسائل سُن سکتے ہیں، آپ اُن کے بچوں کو پروان چڑھتے دیکھ سکتے ہیں اور اُن کے جذبات آپ کے جذبات کا روپ دھار لیتے ہیں۔‘

اُن میں سے ایک شخص جس کی انھوں نے جاسوسی کی وہ اٹلی کے شہر پلیرمو میں ڈاکٹر تھے جو اس وقت جیل میں قید ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اور مافیا برنارڈو پرووینزانو کو سنہ 2006 میں گرفتار کیا گیا

آئی ایم ڈی کے مطابق ’وہ بہت علم والے تھے ہم سب نے اُن کو مسلسل سننے کی وجہ سے اُن سے اطالوی ادب سیکھا۔ ہم اُن کے بچوں کو دیے جانے والے لامختتم لیکچرز میں بتائی گئی کتابوں کے متعلق معلومات لکھ لیتے تھے۔ یہ بالکل ریڈیو کے کسی پروگرام کو سننے کی طرح کا عمل تھا اور ہم سب اُن کے آداب، اُن کے سوچنے کے انداز اور اُن کی تخلیقی صلاحیتوں سے بہت متاثر تھے۔ اس بات پر یقین کرنا بہت زیادہ مشکل تھا کہ وہ ایک مجرم ہیں۔‘

کیتوریندی کے ممبر آئی ایم ڈی کے مطابق جب ہم نے ’اس سور‘ بروسکا کو پکڑا تو انھوں نے بچوں کی طرح رونا شروع کردیا۔

گرفتاری کے بعد کئی ہفتے پریشان کُن ہوسکتے ہیں۔

آئی ایم ڈی کے مطابق ’آپ اب اُن کو نہیں دیکھتے۔ وہ آپ کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہوں تو نفسیاتی طور پر اس بات کو قبول کرنا بہت مشکل ہے۔ آپ اُن کو یاد کرنا شروع کردیتے ہیں۔‘

پولیس کے ساتھ دو دہائیوں تک کام کرنے کے دوران آئی ایم ڈی نےجوونی بروسکا، جو اس بات کے لیے مشہور تھے کہ انھوں نے اپنے ساتھی مافیا کے رُکن جس نے انھیں دھوکہ دیا تھا، کے 11 سالہ بیٹے کے اغوا اور اُس پر تشدد کے جرم کے مرتکب تھے، سمیت 300 کے قریب مافیا کے ارکان کی گرفتاری میں مدد کی۔ بروسکا نے اُس لڑکے کو مار کر اُس کا جسم تیزاب میں تحلیل کر دیا تھا تاکہ بچے کا خاندان بچے کی لاش کو دفن نہیں کرسکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فالکون اپنی اہلیہ اور تین محافظوں کے ہمراہ دھماکے میں مارے گئے تھے

بروسکا جرائم میں ملوث ایک ایسے اہم رُکن تھے جن کی وجہ سے آئی ایم ڈی نے پولیس میں شمولیت اختیار کی۔ 23 مارچ سنہ 1992 کو مافیا نے مافیا کے مخالف سرگرم جج، جیونی فالکن کو قتل کرنے کے لیے پلیرمو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو جانے والی سڑک کے نیچے نصف ٹن دھماکہ خیز مواد نصب کیا۔ بعد میں بروسکا کو اِن بموں کے بٹن دبانے میں ملوث شخص کے طور پر شناخت کیا گیا۔

آئی ایم ڈی نے بتایا ’میں اپنی دوست کی 18 ویں سالگرہ کی تقریب میں شریک تھا جو کہ اُس وقت حیاتیات کی طالبہ تھیں۔ اُن کے والد پلیرمو کی پولیس رسپانس ٹیم کے سربراہ تھے اور جس وقت بم پھٹا تقریب میں شریک تمام پولیس افسران کے پیجرز (ایک ریڈیائی صوتی اشارہ دینے والا جیبی آلہ جِس پر کِسی مرکزی مُقام سے تیز آواز سے مطلوبہ شخص تک پیغام پہنچاۓ جا سکتے ہیں) ایک ہی وقت میں بند ہوگئے اور ہر ایک کی آنکھیں پرنم ہوگئیں۔ یہ اُس لڑکی کا اس معاشرے میں داخلہ تھا۔‘

آئی ایم ڈی فوری طور پر جاننا چاہتے تھے کہ کیا ہورہا ہے لیکن جب اُن پر یہ حقیقت کُھلی کہ ہوائی اڈے کو جانے والی سڑک بند کردی گئی ہے تو انھوں نے اپنی موٹر سائیکل ہوائی اڈے کے بجائے پلیمرو کے مرکز کے لیے موڑ دی تاکہ لوگوں کا ردِعمل دیکھ سکیں۔

آئی ایم ڈی نے ایک چھوٹی سی چوک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہاں پر میں لڑکوں کے ایک گروہ کو ہنستے کھیلتے اور ایک سینڈوچ جسے پنینی کہا جاتا ہے کھاتے ہوئے دیکھا۔ میں اُن کی جانب گیا اور میں نے اُن کو بتایا کہ جج فیلکن کو قتل کردیا گیا ہے۔ وہ مجھ پر چڑھ دوڑے اور کہا، تو ہمیں اس سے کیا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جج جیوونی اپنے تین محافظوں کے ساتھ

آئی ایم ڈی کہتے ہیں ’میں جان گیا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔ اسی روز میں نے جتنے بُرے لوگوں کو میں پکڑ سکتا تھا اُنھیں پکڑنے کے لیے پولیس فورس میں شمولیت اختیار کرلی۔‘

اُس وقت بہت ہی کم تعداد میں سسلی کے جوان کیتوریندی میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے کیوں کہ یہ نوکری بہت خطرناک تھی۔ اس لیے آئی ایم ڈی کی درخواست بہت آسانی سے قبول ہوگئی۔

ان کے مطابق ’بہت سے لوگ یہ جاننے کے بعد آپ سے بات کرنا بند کردیں گے یا پھر آپ کے منہ پر تھوکیں گے کیوں کہ ایک پولیس افسر کو ایک ایسا غدار سمجھا جاتا ہے جس سے بات نہ کی جائے۔‘

انھوں نے اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ دیا اور جس وقت اُن کی یونیورسٹی کے پُرانے دوست ’نائٹ کلبوں میں لڑکیوں کا پیچھا کررہے تھے‘ ، آئی ایم ڈی جیوونی بروسکا اور مافیا کے دیگر مالکان جیسے کہ سیلویٹوری ’توتو‘ رینا جنھوں نے فیلکن کے قتل کے احکامات دیے تھے، کا پیچھا کررہے تھے۔

بروسکا کا تعاقب کرتے ہوئے آئی ایم ڈی اور اُن کے ایک ساتھی پلیمرو کے قریب ایک چھوٹے سے علاقے سینیسی پہنچے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption میتیو میسینا اٹلی کے سب سے مطلوب مافیا ہیں

انھوں نے ہنستے ہوئے بتایا ’وہاں ہمیں لڑکیوں کا ایک گروہ ملا اس لیے ہم نے اِن سے رابطہ کیا۔ اس کا مقصد شکوک و شبہات پیدا کیے بغیر سینیسی کے لوگوں میں شامل ہونا تھا۔ اس کا ہمیں بہت فائدہ ہوا۔ ہم نے اس مفرور کو پکڑ لیا لیکن اس کے بعد مجھے اس سے شادی کرنا پڑی۔‘

اُن کی ملاقاتیں بہت غیر معمولی ہوتی تھیں۔ اُن کی دوست اِن سب باتوں سے ناواقف تھیں اور وہ اُن کے لیے چھپنے کا کارآمد وسلیہ تھیں۔

آئی ایم ڈی کے مطابق ’میں اپنی دوست کو جو کہ اب میری بیوی ہیں، خوبصورت ساحلوں پر لے جاکر ستاروں کی روشنی میں چومنے کے بجائے میں اُنھیں خوفناک جگہوں پر لے کر جایا کرتا تھا۔ غلاظت سے بھری سڑکوں پر صرف اس لیے کیوں کہ میں مفرور شخص کی محبوبہ کا تعاقب کررہا تھا۔ ہم گلے ملنے لگتے تو وہ پوچھتی کہ ’آخر ساری دنیا چھوڑ کر یہیں کیوں ؟‘

انھوں نے مزید بتایا ’انھیں اُن کے گھر پر چھوڑنے کے بعد میں اپنے دفتر واپس جاتا تھا اُس کے متعلق رپورٹ کرتا تھا۔‘

وہ اپنے قریبی لوگوں کو بتایا کرتے تھے کہ وہ پاسپورٹ کے دفتر میں کام کرتے ہیں۔ لیکن انھوں نے اور ان کے ساتھی نے بروسکا کو پکڑ لیا۔ انھوں نے بتایا ’ اس گرفتاری کی ویڈیو ٹیپ کو دیکھنے کے لیے ہر کوئی اپنی ٹی وی سکرینوں کے سامنے تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بعد میں پولیس نے ان کی یہ تصویر جاری کی ہے

آئی ایم ڈی نے مزید بتایا ’جب میری بیوی ( اُس وقت کی دوست) نے ان نقاب پوش مردوں کو دیکھا تو انھیں میری پشت سے واقفیت سی محسوس ہوئی اور انھوں نے مجھے فون کیا۔ میں سچ کو مزید نہیں چُھپا سکتا تھا۔ میں نے انھیں کہا ’براہِ مہربانی دادی کو کچھ مت بتانا ورنہ پوری دنیا کو معلوم ہوجائے گا۔ خوش قسمتی سے انھوں نے میرے راز کو راز رکھا۔‘

اس وقت اٹلی کے سب سے مطلوب مافیا ماٹیو مسینو ڈنیرو جنھیں ڈیابُولک کی عرفیت سے پُکارا جاتا ہے اور انھوں نے یہ نام ایک مزاحیہ کتاب میں ایک نہ پکڑے جانے والے چور کے نام سے متاثر ہوکر رکھی ہے۔ ڈیابُولک مافیا کے سربراہ ہیں اور سنہ 1993 سے روپوش ہیں۔ پولیس کو یقین ہے کہ یہ بیرون ملک اور امکانی طور پر جنوبی امریکہ میں مقیم ہیں۔

انھوں نے ایک بار شیخی بگھاری تھی کہ ’وہ اپنے جرائم سے قبرستان بھر سکتے ہیں‘ اور گذشتہ سال یہ بات سامنے آئی کہ وہ اپنے ساتھی مجرموں کے ساتھ بھیڑ نامی خفیہ لفظ کے ذریعے بات چیت کررہے تھے۔ اُن کے درمیان پیغامات میں ’بھیڑ کو کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہے‘ اور قینچیوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔‘ آئی ایم ڈی جب وہاں موجود تھے تو سسلی میں 11 افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن ڈنیرو ہمیشہ کی طرح بچ نکلے۔‘

تاہم سسیلی کے مافیا اب اتنے طاقتور نہیں رہے جتنے 20 سال قبل تھے۔ لیکن یہ جزیرے کے لوگوں کے لیے اب بھی ایک مسئلہ ہے۔

اسی بارے میں