مضايا کے لیے امداد کی دوسری کھیپ روانہ

Image caption شام کا شہر مضایا جولائی سے شام کی سرکاری فوج اور اُس کی لبنانی اتحادی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے محاصرے میں ہے

اقوامِ متحدہ کا عالمی ادارۂ خوراک شام کے شہر مضایا میں پھنسے ہوئے افراد کے لیے امدادی سامان کی دوسری کھیپ لے کر جا رہا ہے۔

40 ٹرکوں پر مشتمل یہ قافلہ جس میں آٹا، ادویات اور حفظانِ صحت کی دیگر اشیا شامل ہیں، جمعرات کی صبح دمشق سے روانہ ہوا۔

’مضایا سے 400 افراد کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے‘

’مضایا تک امداد پیر کو ہی پہنچ پائے گی‘

شام ’محصور قصبے میں امداد کی فراہمی کے لیے رضامند‘

اس سے پہلے پیر کو اقوامِ متحدہ کا عالمی ادارۂ خوراک امدادی سامان کی پہلی کھیپ لے کر مضایا پہنچا تھا۔

ادارے نے مضایا میں موجود 40,000 افراد کو امداد فراہم کی، تاہم ادارے کے مطابق وہاں لوگ بھوک کے ہاتھوں موت کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں اور زندہ رہنے کے لیے پالتو جانور اور گھاس پھونس کھانے پر مجبور ہیں۔

شام کا شہر مضایا جولائی سے شام کی سرکاری فوج اور اُس کی لبنانی اتحادی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے محاصرے میں ہے۔

کفرایہ اور فواہ کے 20,000 افراد کو پیر کو امداد پہنچائی گئی جہاں حالات مضایا سے بھی زیادہ تشویش ناک ہیں۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے ترجمان نے اقوامِ متحدہ، شام کی ریڈ کراس اور اپنے ادارے کی جانب سے مضایا کو امدادی کھیپ پہنچانے کی تصدیق کی ہے۔

آئی سی آر سی کے ترجمان پاول کریزائیک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’مضایا میں ہماری ہماری ترجیح آٹے اور ادویات کی فراہمی ہے۔‘

Image caption 40 ٹرکوں پر مشتمل قافلہ آٹا، ادویات اور حفظانِ صحت کی دیگر اشیا لے کر جمعرات کی صبح دمشق سے روانہ ہوا

ان کا کہنا تھا کہ وہ مضایا کے 300 سے لے کر 400 افراد، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بہت زیادہ کمزور ہو چکے ہیں، کے لیے ایک ماہرِ غذائیت کو ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امدادی کارکنوں کو وہاں جانے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

مضایا دارالحکومت دمشق کے شمال مغرب میں واقع ہے اور یہ گذشتہ چھ ماہ سے شام کی سرکاری فوج اور اُس کی لبنانی اتحادی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے محاصرے میں ہے۔

مضایا میں اقوامِ متحدہ کے نمائندے سجاد ملک کا کہنا ہے وہاں کے افراد کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قصبے میں بجلی نہیں ہے، بہت زیادہ سردی ہے ، وہا ں کے افراد کی حالت بہت زیادہ خراب ہے اور خوراک کی عدم فراہمی کی وجہ سے وہ لوگ بہت زیادہ کمزور ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں