برکینا فاسوہوٹل پر حملہ: آپریشن مکمل، مغوی رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسی قسم کا حملہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت سپند تنظیم نے نومبر میں ہمسایہ ملک مالی میں بھی کیا تھا

مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو کے دارالحکومت اواگاڈوگو کے ہوٹل میں اسلامی شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں یرغمال بنائے گئے 126 افراد کو رہا کروا لیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن مکمل کر لیا ہے۔

شدت پسندوں کے خلاف حملے میں سکیورٹی فورسز حملے میں کم سے کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔

سنیچر کی شب ہونے والے حملے کے بعد فرانسیسی افواج کی مدد سے برکینا فاسو کی سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کے خلاف آپریشن کیا۔اس ہوٹل میں زیادہ تر غیر ملکی شہری قیام کرتے ہیں۔

افریقی ملک برکینا فاسو کے وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ہوٹل پر شدت پسندوں کے مسلح حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔

سکیورٹی فورسز نے آپریشن کر کے 126 مغویوں کو بازیاب کروا لیا ہے اس حملے میں کم سے کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور عینی شاہدین کے مطابق ہوٹل کی لوبی میں 10 افراد کی لاشیں موجود ہیں۔

شدت پسند گروہ القاعدہ ان اسلامک مغرب نامی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت خطرناک حملہ تھا۔ لوگ پریشان تھے اور زمین پر لیٹ گئے تھے، ہر طرف خون ہی خون تھا۔ وہ لوگوں کو سامنے سے مار رہے تھے۔

یاد رہے کہ نومبر میں افریقی ملک مالی کے درالحکومت باماکو میں شدت پسندوں نے ہوٹل پر حملہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے ہوٹل کے باہر دو کار بم دھماکے ہوئے اور ہوٹل میں تین سے چار نقاب پوش افراد نے حملہ کیا۔ اس ہوٹل میں اقوامِ متحدہ کا سٹاف اور غیر ملکی مقیم تھے۔علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

ملک کے وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں موجود اقوام متحدہ کے عملے اور مغربی باشندوں کو رہا کروانے کے لیے فرانس کی خصوصی فورس بھی فوجی دستوں کی معاونت کی ہے۔فرانسیسی صدر نے حملے کی مذمت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حملہ آوروں نے ہوٹل کے قریب واقع کیفے میں داخل ہوکر ایک ملازم کو ہلاک کر دیا ہے

یہ ہوٹل ملک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع ہے۔ عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے ہوٹل کے کیفے میں داخل ہوکر فائرنگ کی۔ جس سے کیفے کا ملازم ہلاک ہوا۔

ہوٹل کے ملازم کا کہنا تھا کہ ’کئی افراد ہلاک‘ ہوئے ہیں۔

امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے سے آگاہ ہے اور صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔

خیال رہے کہ اسی قسم کا حملہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت سپند تنظیم نے نومبر میں ہمسایہ ملک مالی میں بھی کیا تھا جس میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں