ایرانی پابندیاں ختم ہونے کا عالمی خیر مقدم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔

بان کی مون نے اسے ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین نے اس حوالے سے اپنے اپنے وعدوں کو پورا کیا۔

برطانوی وزیرِ خارجہ فلپ ہومونڈ نے اسے مسلسل ڈپلومیسی کی فتح قرار دیا۔

ایران پر عائد بین الاقومی پابندیاں اٹھا لی گئیں

ایران کی قید سے چار امریکی رہا، پابندیاں اٹھنے کا انتظار

فرانسیسی وزیرِ خارجہ فرانک والٹر کا کہنا تھا کہ وہ خطے کے دیگر مسائل کے حل کے لیے ایران سے ایسے ہی ’تعاون کے جذبے‘ کی اُمید کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ امن اور استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔‘

ادھر اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ایران ابھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔

واشنگٹن میں ایوان نمائندگان کے رپبلکن سپیکر پال رائن نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے دنیا کی معروف ریاست اسے دہشت گردی کی معاونت کے طور پر استمعال کرے گی۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی کے نگران ادارے آئی اے ای اے کی جانب اس بات کی تصدیق کرنا کہ ایران نے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے لیے تمام اقدامات پورے کر لیے ہیں نے پوری دنیا کو محفوظ بنا دیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے ویانا میں ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف کے ہمراہ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے علاقائی امن اور استحکام میں اضافہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے عالمی توانائی ایجنسی کے اہلکاروں کے ساتھ تعاون کیا اور دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے ایرانی اقدامات قابل تعریف ہیں۔

ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے ویانا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مذکورہ فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا ’ایران کے عوام کے لیے آج خوشی کا دن ہے۔‘

اسی بارے میں