ایران میں گرفتار امریکی تہران سے چلے گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری ویانا میں ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے کے معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں

وہ چار ایرانی امریکی جنھیں قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا، تہران سے چلے گئے ہیں۔

ان افراد کو ایسے سات ایرانیوں کے عوض رہا کیا گیا ہے جن پر امریکہ نے الزام عائد کر رکھا تھا کہ انھوں نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں کے خلاف ورزی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انھیں بھی آزاد کر دیا گیا ہے۔

ایران نے امریکی قیدیوں کو رہا کر دیا

رہا ہونے والے دو امریکیوں میں اخبار واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار جیسن رضایان شامل ہیں جنھیں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق ایک اور امریکی قیدی میتھیو ٹریویچک اس سے قبل ہی تہران سے چلے گئے تھے۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ اگرچہ اس تبادلے کاتعلق ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نہیں ہے، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کی وجہ سے قیدیوں کی جلد رہائی ممکن ہو سکی۔

اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے بھی اس تبادلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو باہمی تعاون کے ذریعے ’مستقبل کو محفوظ بنانے‘ کے چیلنجوں پر کام کرنا چاہیے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے جیسن رضایان کے علاوہ رہائی حاصل کرنے والے جن تین امریکی قیدیوں کے نام بتائے ہیں ان میں سابق میرین عامر حکمتی، پادری سعید عبیدینی اور شاہ پہلوی کے دور کے ایک سیاست دان اور ایک تاجر کے بیٹے سیامک نمازی شامل ہیں۔

خبررساں ادارے کے مطابق ایف بی آئی کے ایجنٹ رابرٹ لیونسن سنہ 2007 میں ایران میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ وہ سی آئی اے کے ایک غیر منظور شدہ مشن پر کام کر رہے تھے۔

اسی بارے میں