عراق میں امریکی شہریوں کے اغوا کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ نے اپنے شہریوں کی لاپتہ ہونے کی بات تسلیم کی ہے لیکن ان کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے

بغداد میں قائم امریکی سفارت خانے نے عراق میں متعدد امریکی باشندوں کو اغوا کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے: ’ہم لوگ عراقی حکام کے مکمل تعاون کے ساتھ ان لوگوں کی نشاندہی اور بازیابی کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

عراق میں سکیورٹی حلقوں سے ملنے والی غیر مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ تین امریکی باشندوں اور ان کے ایک ترجمان کو بغداد کے جنوبی علاقے سے اغوا کیا گیا۔

تاہم امریکی حکام نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ مغویوں کی تعداد کیا ہے اور انھیں کہاں سے اغوا کیا گیا۔

ایک اہلکار نے بغداد میں سی این این ٹی وی کو بتایا کہ تین کنٹریکٹرز جمعے سے غائب ہیں۔

سینیئر سکیورٹی اہلکار نے کہا: ’ایک کمپنی نے اتوار کو رپورٹ دی ہے کہ اس کے عملے کے تین ارکان دو دن سے لاپتہ ہیں۔ وہ امریکی کنٹریکٹر ہیں۔ اور ہم اطلاع کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کئی ماہ سے بغداد قدرے پرسکون تھا اور خون خرابے کے واقعات معدوم ہو گئے تھے

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ ’بیرون ملک امریکی شہریوں کی حفاظت اور سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔‘

بغداد میں موجود بی بی سی کے نمائندے جم میور کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاملہ سنگین صورت اختیار کرتا ہے تو یہ عراق میں استحکام اور ترقی کی کوششوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

خیالر ہے کہ گذشتہ ماہ قطر کے شکاریوں کے ایک گروپ کو بھی، جس میں شاہی خاندان کے افراد بھی شامل تھے، عراق کے ریگستان سے اغوا کر لیا گيا تھا۔

سنہ 2011 میں عراق سے امریکی فوج کی واپسی سے قبل وہاں مغربی ممالک کے کئی شہریوں کے شیعہ اور سنی جنگجو گروہوں کے ہاتھوں اغوا کے واقعات پیش آتے رہے تھے لیکن فوج کی واپسی کے بعد اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہو رہے تھے۔

اسی بارے میں