دقیانوسی مرد اور کیمرون کا عزم

Image caption خواتین کے بارے میں بعض ایشیائی مردوں کا رویہ ڈیوڈ کیمرون کے خیال میں خطرناک حد تک منفی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں کچھ حلقوں کی جانب سے مسلمان خواتین کو الگ تھلگ رکھنے اور ان کے ساتھ امتیاز برتنے کے خلاف ’مزید موثر‘ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ان چند مسلمان مردوں سے صرفِ نظر کرنا ختم کر دیا جائے جو اپنے ’دقیانوسی رویوں‘ کے ذریعے اپنے خاندان کی خواتین پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

برطانیہ میں تقریباً 22 فیصد ایسی مسلمان خواتین کے لیے جو بہت کم انگریزی زبان جانتی ہیں یا بالکل نہیں جانتیں، دو کروڑ برطانوی پاؤنڈ مختص کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم کیمرون کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے انتہا پسندی اور بنیاد پرستی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

برطانوی روزنامہ دی ٹائمز میں لکھتے ہوئے وزیراعظم کیمرون کہتے ہیں کہ کچھ مسلمان حلقوں کی برطانوی معاشرے میں انضمام کی کمی سے انتہا پسندی کو پنپنے میں مدد ملتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی وجہ سے خواتین کی زبردستی کی شادیوں اور زنانہ ختنہ جیسی ’ہولناک روایات‘ جاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ ہفتے میں نے انتہائی ذہین اور روشن خیالات کی مالک مسلمان خواتین کے ایک اجلاس کی صدارت کی جو بہترین رول ماڈل ہیں۔ جہاں میں نے ان بہت سی خواتین کی مثالیں سنیں جو ہمارے ملک میں ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہیں، وہیں چند خواتین نے مجھے صنفی امتیاز کی خطرناک صورت حال سے آگاہ کیا۔ انھوں نے ان خواتین کے بارے میں بتایا جو برطانوی معاشرے کے مرکزی دھارے میں شمولیت

کے بجائے سماجی تنہائی اور صنفی امتیاز کا شکار ہیں۔‘

وزیراعظم کیمرون نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ’ہم اپنی لبرل اقدار کی مزید ترویج بنائیں۔ ان افراد کے بارے میں اپنی توقعات مزید واضح کریں جو یہاں رہائش اختیار کرنے کی غرض سے آتے ہیں، ہمارے ملک کی تعمیر میں ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور اس عمل میں درپیش رکاوٹوں کو ہٹانے میں اپنی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں سمیت ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانوی وزیر اعظم نے ایشیائی خواتین کی حالت کے بارے میں ان خیالات کا اظہار اپنے ایک مضمون میں کیا ہے

انھوں نے کہا ’یہ برطانیہ ہے۔ اس ملک میں لڑکیوں اور خواتین کو آزادی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزاریں۔‘

بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار روس ہاکنز کا کہنا ہے کہ حکومت کی انسدادِ انتہاپسندی کی حکمت عملی کو ماضی میں برطانوی مسلم کونسل کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔

برطانوی مسلم کونسل کے مطابق حکومتی حکمت عملی برطانوی اقدار کے دھندلے تصورات پر مشتمل ہے۔

وزیر اعظم آنے والے دنوں میں سماجی تنہائی اور امتیازی سلوک سے نمٹنے کے لیے نئی پالیسیوں کا اعلان کریں گے۔

ان اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ملک میں تقریباً دو لاکھ مسلمان خواتین انگریزی زبان سے نابلد ہیں، تارکین وطن کو انگریزی زبان سکھانے کے مراکز کے قیام کے لیے کام کیا جائے گا۔

گھروں، سکولوں، اور کمیونٹی مراکز میں انگریزی سکھانے کی جماعتوں کا انتظام کیا جائے گا جبکہ سفر اور بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی دیے جائیں گے۔

ماضی میں ان دو عوامل کو ’شرکت میں سب سے بڑی رکاوٹ‘ کہا جاتا رہا ہے۔ پہلے سے جاری ایک منصوبے کے تحت اب تک 30 ہزار سے زائد بالغ افراد کی مدد کی جا چکی ہے۔

اپنے مضمون میں کیمرون لکھتے ہیں کہ اگر یہاں آنے والے لوگ برطانیہ میں اپنا قیام بڑھانا چاہتے ہیں یا یہاں کی شہریت کے حصول کے خواہش مند ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انگریزی زبان میں مہارت پیدا کریں۔

مطلوبہ سطح تک مہارت حاصل نہ کرنے والے افراد کے خلاف کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ افراد جو اپنے ویزے کی مدت بڑھانا چاہتے ہیں یا مستقل سکونت کے خواہش مند ہیں، ان کی انگریزی زبان میں مہارت کو مدنظر رکھا جائے گا۔

ان افراد کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے جو ’اپنی بیویوں، بہنوں، اور بیٹیوں پر زبردستی اپنی مرضی‘ مسلط کرنےکی کوشش کرتے ہیں، وزیراعظم شرعی عدالتوں سمیت برطانیہ کی مذہبی کونسل کے کردار کا جائزہ لینے کا اعلان بھی کریں گے۔

کیمرون کا کہنا تھا کہ صحت کے کارکن، نوکری کے مراکز اور سکولوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تعصب اور تنگ نظری سے نمٹنے اور اس عمل کے لیے مدد کا اشتراک ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ ملک آج جو کچھ ہے اس کے پیچھے ہماری اقدار ہی ہیں۔ اور یہ کمزور افراد کے حقوق کے لیے کھڑا ہونے سے ہی ممکن ہے۔برطانیہ میں مرد، عورت کی کامیابی سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ فخر سے اس کا جشن مناتا ہے۔‘