ہانگ کانگ کے لاپتہ ناشر چین کے سرکاری ٹی وی پر

تصویر کے کاپی رائٹ CCTV
Image caption ناشر گی منہائی کا کہنا ہے کہ وہ 12 سال قبل نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کے جرم میں سزا یافتہ ہونے کے بعد سے مفرور تھے

گذشتہ سال اکتوبر میں لاپتہ ہونے والے ہانگ کانگ کے ناشر چین کے سرکاری ٹیلی وژن پر سامنے آگئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے رضاکارانہ طورپر خود کو حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

ناشر گی منہائی کا کہنا ہے کہ وہ 12 سال قبل نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کے جرم میں سزا یافتہ ہونے کے بعد سے مفرور تھے اور انھوں نے خود اپنے آپ کو حکام کے حوالے کیا ہے۔

سویڈن کی شہریت کے حامل گی ہانگ کانگ کے ان پانچ ناشروں میں شامل ہیں جو حال ہی میں لاپتہ ہوئے تھے۔

ہانگ کانگ میں کچھ لوگوں کی جانب سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ ان افراد کو چین کے خلاف لکھی جانے والی ایک تنقیدی کتاب کے باعث زیر حراست رکھا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہانگ کانگ میں ہزاروں افراد نے ان افراد کی گمشدگی کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ ان کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کا کہنا ہے کہ 51 سالہ گی چین کے مشرقی شہر ننگبو میں ایک خطرناک کار حادثے میں ملوث ہیں جس میں کالج کی ایک طالبہ ہلاک ہوگئی تھیں۔ شن ہوا کا کہنا ہے کہ وہ موقعے سے سے فرار ہوگئے تھے جس کے بعد انھیں دوسال کی معلق قید سنائی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ ہفتے ہانگ کانگ میں بیجنگ کی ترجمانی کرنے والے دفتر کے سامنے ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا تھا

شن ہوا کے مطابق سےگی نے چین کے سرکاری ٹی وی سے کہا: ’میں اپنی قانونی ذمہ داری پوری کر رہا ہوں، اور میں کسی بھی قسم کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔‘

گی منہائی ہانگ کانگ میں مائٹی کرنٹ نامی اشاعتی ادارے کے مالک تھے۔ وہ گذشتہ سال اکتوبر میں تھائی لینڈ میں چھٹیاں گزارنے گئے تھے جس کے بعد وہ واپس نہیں لوٹے تھے۔

سماجی کارکنوں کا خیال ہے کہ انھیں چینی صدر کی نجی زندگی کے بارے میں لکھی جانے والی ایک کتاب کے باعث غیر قانونی طور پر چین منتقل کر دیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ یہ کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی ہے۔

پانچوں لاپتہ افراد یا تو مائٹی کرنٹ کے ملازم تھے یا پھر اس اشاعتی ادارے کی ملکیت کتابوں کی ایک دکان کازوے بے بُکس کے لیے کام کرتے تھے۔

کتابوں کی یہ دکان چین پر لکھی جانے والی اُن تنقیدی کتابوں کی فروخت کے لیے شہرت رکھتی ہے جنھیں چین میں پابندی کا سامنا ہے۔

پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو کے دوران گی منہائی نے سویڈن کے حکام سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں ملوث نہ ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مظاہرین ’سیاسی اغوا نامنظور‘ کے نعرے لگا رہے تھے

ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ میرے پاس سویڈن کی شہریت ہے تاہم مجھے لگتا ہےکہ میں آج بھی چینی ہوں اور میری جڑیں اب بھی چین میں ہیں۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ سویڈن کے حکام میری ذاتی رائے اور نجی حقوق کا احترام کریں گے اور مجھے اپنے مسائل خود حل کرنے دیں گے۔‘

سویڈن کی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت سامنے آنے والی اطلاعات سے واقف ہے لیکن وہ اس پر کوئی بیان نہیں دے گی البتہ ان کی حکومت نے چین سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

گذشتہ ہفتے ہانگ کانگ میں بیجنگ کی ترجمانی کرنے والے دفتر کے سامنے ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرین ’سیاسی اغوا نامنظور‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

گمشدگی کا تازہ ترین واقعہ گذشتہ سال دسمبر میں پیش آیا تھا جب اکتوبر میں لاپتہ ہونے والے اپنے چار ساتھیوں کے بارے میں آواز اٹھانے والے لی بو لاپتہ ہوگئے تھے۔

ہانگ کانگ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ پانچوں افراد کی گمشدگی کے واقعے کی ’مکمل‘ تحقیقات کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ’ایک ملک دو نظام ‘ کے اصول کے تحت ہانگ کانگ کو بہت حد تک چین سے خود مختاری کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

جمہوریت پسند جماعت پیپل پاور پارٹی کے سیاست دان البرٹ چن نے گذشتہ ہفتے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ہانگ کانگ کے قانون کی اتنی واضح خلاف ورزی کی گئی ہے۔‘

اسی بارے میں