13 برس میں پہلی بار تیل کی قیمت 28 ڈالر سے بھی کم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تیل کی قیمتیں گذشتہ 18 ماہ میں 70 فیصد تک کم ہو چکی ہیں

ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

پیر کو برنٹ کروڈ کی فی بیرل قیمت کچھ عرصے کے لیے 28 ڈالر سے بھی نیچے دیکھی گئی تاہم بعدازاں اس میں کچھ اضافہ ہوا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 30 ڈالر سے نیچے آ گئی

عرب ممالک کے حصص بازاروں میں مندی کا رجحان

یہ گذشتہ 13 برس میں پہلا موقع ہے کہ تیل کی فی بیرل قیمت 28 ڈالر سے کم ہوئی۔

جوہری معاہدے پر مناسب عمل درآمد کی تصدیق کے بعد سنیچر کو ایران پر سے گزشتہ 40 برس سے عائد اقتصادی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔

معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ بازار میں ایران کی جانب سے اضافی تیل آنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی۔

اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ایران کا کہنا ہے کہ وہ تیل کی برآمد میں یومیہ پانچ لاکھ بیرل اضافے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایران کی تیل کی برآمدات پہلے ہی جنوری میں نو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

تیل کی عالمی قیمتیں گذشتہ 18 ماہ میں 70 فیصد تک کم ہو چکی ہیں۔

اس کی وجہ چین کی معاشی ترقی کی شرح میں کمی کے نتیجے میں تیل کی طلب میں کمی کے ساتھ ساتھ امریکہ میں شیل تیل کی پیداوار بڑھنے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد میں اضافہ جبکہ طلب میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے خیال میں اس وقت طلب کے مقابلے میں تیل کی یومیہ پیدوار دس لاکھ بیرل زیادہ ہے۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر ان عرب ممالک کے بازارِ حصص پر بھی دیکھنے کو ملا ہے جو تیل کے بڑے برآمد کنندہ ہیں۔

گذشتہ ہفتے سعودی بازارِ حصص میں شیئرز کی قیمتوں میں چھ فیصد سے زیادہ کمی آئی جبکہ قطر اور دبئی کی سٹاک مارکیٹس میں بھی مندی کا رحجان رہا۔

قطر کی سٹاک ایکسچینج میں حصص کی مالیت میں 7 فیصد جبکہ دبئی میں 4 فیصد کمی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں