’ایک فیصد افراد کی دولت، 99 فیصد کے برابر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption دنیا کے امیر ترین 62 افراد کے پاس عالمی سطح پر موجود 50 فی صد غریبوں کے جتنی دولت ہے

فلاحی ادارے اوکسفیم کا کہنا ہے کہ دنیا کے امیر ترین ایک فیصد افراد کی دولت اب دنیا کے باقی 99 فیصد افراد کی دولت کے برابر ہے۔

ادارے نے اپنی رپورٹ کے لیے کریڈٹ سوئس کے اکتوبر کے اعداد و شمار کو بنیاد بنایا ہے اور آئندہ ہفتے ڈیووس میں ہونے والی کانفرنس میں عالمی رہنماؤں سے اس عدم مساوات کے خلاف اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔

اوکسفیم نے یہ بھی بتایا ہے کہ دنیا کے امیر ترین 62 افراد کے پاس عالمی سطح پر موجود 50 فیصد غریبوں کے جتنی دولت ہے۔

اس نے اپنی رپورٹ میں لابی بنانے والوں اور ٹیکس میں بچائے جانے والے پیسے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

خیال رہے کہ اوکسفیم نے گذشتہ سال یہ پیشنگوئی کی تھی کہ دنیا کی ایک فیصد آبادی دولت کے معاملے میں باقی ماندہ 99 فیصد آبادی کو پیچھے چھوڑ دے گي۔

ادارے کے مطابق جس کے پاس 68800 امریکی ڈالر نقدی یا اتنی مالیت کے اثاثے ہیں وہ دنیا کے دس فیصد امیر لوگوں میں شامل ہے۔

دنیا کے سر فہرست ایک فیصد امیر افراد کی صف میں شامل ہونے کے لیے سات لاکھ 60 ہزار امریکی ڈالر کے اثاثے یا نقدی درکار ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر لندن میں آپ کے پاس ایک متوسط قسم کا گھر بغیر رہن کے ہے تو آپ دنیا کے ایک فیصد امیر لوگوں میں شامل ہیں۔

تاہم ان اعداد و شمار میں بہت سے شگاف موجود ہیں، مثال کے طور پر انتہائی امیر لوگوں کی دولت کا اندازہ لگا پانا مشکل ہے اور کریڈٹ سوئس کے مطابق دس فیصد امیر ترین افراد کی دولت کی بنیاد پر ایک فیصد امیر ترین لوگوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں غلطی کے امکان ہیں۔

ایک عالمی رپورٹ کی حیثیت سے اس میں ان ممالک کے بھی اعداد و شمار ہیں جہاں سے درست اعداد و شمار حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔

Image caption جس کے پاس 68800 امریکی ڈالر کیش یا اتنی کی ملکیت ہے وہ دنیا کے دس فیصد امیر لوگوں میں شامل ہے

اوکسفیم کا کہنا ہے کہ دنیا کے 50 فیصد غریب لوگوں کی مجموعی دولت کے برابر دولت صرف 62 افراد کے ہاتھوں میں ہے اور یہ دولت کے ایک جگہ مرتکز ہونے کی مثال ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2010 میں 50 فی صد غریبوں جتنی دولت 388 افراد کی مجموعی دولت کے برابر تھی۔

اوکسفیم نے کہا کہ ’تمام لوگوں کی خوشحالی، آنے والی نسلوں اور کرہ ارض کے لیے معیشت بنانے کے بجائے ہم نے ایک ایسی معیشت بنائی ہے جو صرف ایک فی صد کے لیے کام کرتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption لاکھوں غریبوں کو پورے تن دھکنے کے لیے مناسب کپڑے تک میسر نہیں

اوکسفیم نے حکومتوں سے اس رجحان کے برخلاف اقدام پر زور دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ مزدوروں کی اجرت اور ایگزیکٹیو افسران کے انعامات کے درمیان کی خلیج کو کم کیا جائے۔

اس نے جنس پر مبنی تنخواہ کے فرق کو بھی کم کرنے، بے اجرت خدمات کا بدلہ دینے اور وراثت میں خواتین کے لیے مساوی حق کی بات کہی ہے۔

اس نے لابی کرنے والے کے خلاف اقدام، ادویہ کی قیمتیں کم کرنے اور عدم مساوات سے نمٹنے کے لیے دولت پر ٹیکس لگانے کی بات کہی ہے۔

اسی بارے میں