دولت اسلامیہ نے 3500 عورتوں، بچوں کو غلام بنا رکھا ہے: اقوام متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption سنہ 2011 سے شروع ہونے والے تشدد کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں عام شہریوں کے خلاف ’پرتشدد کارروائیاں‘ جاری ہے اور جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 کے دوران تشدد کی اس لہر میں کم سے کم 18 ہزار آٹھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران 32 لاکھ افراد کو عارضی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی۔

اقوام متحدہ نے عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کا ذمہ دار شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے 3500 خواتین اور بچوں کو غلام بنایا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف دھڑوں میں شامل جنگجو، فوجیوں اور کرد افواج بھی مبینہ طور پر زیادتیوں میں ملوث رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ ’یہ رپورٹ اس بات کی تشریح کرتی ہے کہ عراق کے پناہ گزین یورپ اور دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اپنے آبائی علاقے میں انھیں شدید تشدد کا سامنا ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے عراق میں مشن اور انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کی اس رپورٹ کی بنیاد نقل مکانی کرنے والے افراد اور تشدد کا شکار ہونے والوں کے انٹرویو ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 کے دوران مجموعی طور پر 18 ہزار 802 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 36 ہزار 245 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران عراق سے 32 لاکھ افراد کو عارضی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی۔

عراق کے مشرقی صوبے انبار میں جہاں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا قبصہ ہے، وہاں حالات زیادہ خراب ہیں۔

عراق میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے نصف سے زیادہ اموات بغداد صوبے میں ہوئیں اور عام شہریوں کو سب سے زیادہ ریموٹ کنٹرول بموں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ عراق میں عام شہریوں کی یہ اموات 2006 اور 2007 کے مقابلے میں بہت کم ہیں جب ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پر تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ منظم اور بڑے پیمانے پر تشدد اور انسانی حقوق کے بین الاقومی قوانین اور انسانیت کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘

رپورٹ کے متن کے مطابق ’بعض اوقات تو یہ کارروائیاں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرم اور ممکنہ طور پر نسل کشی کے مترادف ہیں۔‘

رپورٹ میں دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں قتلِ عام کو ہولناک قرار دیا گیا جس میں فائرنگ، سرقلم کرنا، زندہ جلانا اور اونچی عمارت سے نیچے پھینک کر عام شہریوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق موصل شہر سے دولتِ اسلامیہ نے نو سو بچوں کو مغوی بنانے کے بعد فوجی تربیت دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور بچوں کے ساتھ مبینہ طور پر ’جنسی زیادتی‘ کی گئی اور تقریباً 3500 خواتین اور بچوں کو غلام بنایا گیا اور ان افراد کی اکثریت یزیدی اقلتیوں سے تعلق رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اقوام متحدہ نے عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کا ذمہ دار شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو ٹھہرایا ہے

عراق میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے جان کیوبس کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی وجہ سے ہزاروں عراقی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور نقل مکانی کرنے والے افراد محفوظ پناہ کی تلاش میں ہیں۔

مسٹر کیوبس نے عراقی افواج پر زور دیا کہ وہ ’ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں اور نقل مکانی کرنے والے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی کو یقینی بنائیں۔‘

عراق میں سنہ 2011 سے شروع ہونے والے تشدد کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں