ہندو دیوی کی مورتی کو 130 برس بعد سر مل گیا

فرانسیسی عجائب گھر نے ساتویں صدی کے ہندو مجسمے کا سر 130 سال بعد کمبوڈیا کو واپس کر دیا ہے۔

کمبوڈیا پر حکمرانی کے دوران ہندو دیوتا دشنا اور شوا کے مجسمے کا سر فرانس لے گیا تھا۔

کمبوڈیا کی درخواست پر فرانسیسی عجائب گھر نےیہ سر واپس کیا۔

کمبوڈیا کی وزارت برائے ثقافت کے ترجمان نے کہا کہ اس مجسمے کا سر دھڑ سے ملانے کے بعد ایسا لگا جیسا ہم اپنے قومی اثاثے کی روح کو ملا رہے ہیں۔

یہ مکمل مجسمہ ٹاکیو صوبے میں واقع نوم ڈا مندر میں تھا اور اس کا سر 1886 میں فرانس لے جایا گیا۔

یاد رہے کہ کمبوڈیا کی حکومت کچھ عرصے سے مختلف ممالک سے ملک سے بغی اجازت لے گئی اشیا کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

تین سال میں امریکی عجائب گھروں اور ناروے میں ایک شخص نے کئی مجسمے کمبوڈیا کو واپس کیے ہیں۔