روسی جاسوس کے قتل کے ملزم نے تفتیشی رپورٹ مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سابق روسی جاسوس الیگزنڈر لتوینینکو کے قتل کے لیے بپلک انکوائری میں جن افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں سے ایک نے اس رپورٹ کو ’واہیات‘ قرار دیا ہے۔

آندرے لوگووئی کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیشن نے اپنی ’اختراع‘ اور ’اندازے‘ پیش کیے ہیں اور لگتا ہے انکوائری کے چیئرمین کا ’دماغ خراب ہے۔‘

انکوائری نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ روسی شہری لوگووئی اور دمتری کووتون نے جان بوجھ کر لتوینینکو کو زہر دیا اور یہ قتل روسی صدر پوتن کی ’ممکنہ رضامندی‘ سے کیا گیا۔

ادھر روس نے الزام لگایا ہے کہ برطانیہ میں سر رابرٹ اوون کی اس پبلک انکوائری کے پیچھے ’سیاسی محرکات‘ کار فرما ہیں۔

واہیات فیصلہ

ایک طویل انتظار کے بعد لتوینینکو کی موت کی تفتیشی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں دو روسی افراد کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے سنہ 2006 میں لندن کے ایک ہوٹل میں 43 سالہ لتوینینکو کی شراب میں جان بوجھ کر 210 پولونیئم نامی تابکار زہر شامل کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ان دونوں افراد نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

لتوینینکو اس زہریلے مادے کے اثر کے نتیجے میں اسی سال تین ہفتے بعد نومبر میں ہلاک ہو گئے تھے۔

لوگوووئی نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے آپ کے جج کا بے بنیاد فیصلہ دیکھا ہے جو واقعی پاگل ہوگئے ہیں۔ مجھے اس میں کچھ نیا نظر نہیں آیا۔ مجھے بہت افسوس ہے کہ دس سالوں میں بھی آپ کچھ نیا پیش نہیں کر سکے سوائے اپنی ذہنی اختراع، اندازوں اور افواہوں کے۔‘

’اور حقیقت یہ بھی ہے کہ رپورٹ میں ’ممکنہ ‘ اور ’غالباً‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس ہمارے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔‘

پبلک انکوائری کے چیئرمین سر رابرٹ اوون نے کہا ہے کہ انھیں ’یقین‘ ہے کہ لتوینینکو کے قتل کے پیچھے ان دو افراد کا ہاتھ ہے اور وہ ’غالباً‘ ماسکو کی خفیہ ایجسنسی ایف ایس بی کی ہدایات کے مطابق کام کر رہے تھے، جنھیں ادارے کے سربراہ نکولائی پیتروشیو اور روسی صدر کی حمایت حاصل تھی۔

انھوں نے کہا کہ لتوینیکو کا برطانوی ایجنسیوں کے لیے کام کرنا، ان کی ایف ایس بی اور پوتن پر تنقید، اور ان کے دیگر روسی باغیوں سے تعلقات ’ممکنہ‘ طور پر ان کی موت کی وجہ بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سر رابرٹ اوون نے کہا کہ پوتن اور لتوینینکو کے درمیان ’بلا شبہہ ذاتی تنازع اور عداوت‘بھی اس قتل کی وجوہات میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیونیئم 210 کا استعمال اس بات کا ٹھوس اشارہ ہے کہ اس قتل میں ریاست ملوث ہے کیونکہ یہ مادہ نیوکلیائی ری ایکٹر کے علاوہ کہیں اور تیار نہیں کیا جا سکتا۔

لوگووئی کا کہنا ہے کہ ان کا برطانیہ آ کر ان الزامات کا سامنا کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ’یہ ایسا ہی جیسے چاند کو زمین کا حصہ بنا دیا جائے، اگر ایسا ہو جاتا ہے تو مجھے بھی روس سے نکال دیا جائے گا۔‘

’آپ مجھے بتائیے کہ اگر لندن نے مجھ پر دس سال قبل ایک الزام لگایا تھا جس کی سزا عمر قید ہے، تو کیا میں اپنے ہوش و حواس میں ہوتے ہوئے وہاں جاکر ان کے الزامات کی تصدیق کروں؟ میں روسی ہوں، میں آپ پر کیوں اعتماد کروں؟ مجھے روسی نظام عدل پر بھروسہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

لتوینینکو 2000 میں روسی حکومت اور ایجنسیوں سے اختلافات کے بعد بھاگ کر برطانیہ آگئے تھے، جہاں پہلے ان کو پناہ پھر بعد میں برطانیہ کی شہریت دے دی گئی۔

اپنی موت سے قبل برطانیہ میں انھوں نے ایک لکھاری اور صحافی کے طور پر کام کیا اور اپنی تحریروں میں کریملین پر سخت تنقید کرتے رہے۔

انکوائری کے پاس شواہد موجود ہیں کہ لتوینینکو کو تابکاری کے اثرات سے آہستہ آہستہ موت کی جانب دھکیلنے کا مقصد شاید ’پیغام دینا‘ بھی تھا۔

جمعرات کو لتوینینکو کی بیوہ مرینا نے انکوائری کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’بہت خوش‘ ہیں کہ ’جو الفاظ جو میرے شوہر نے بستر مرگ پر اپنے قتل کا ذمہ دار پوتن کو ٹھہرانے سے متعلق کہے تھے، برطانوی عدالت نے ان کو ثابت کر دکھایا ہے۔‘

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ کو شام کے مسئلے کی وجہ سے ’روس سے کچھ نہ کچھ تعلق‘ رکھنا پڑے گا لیکن اس میں کسی قسم کی گرم جوشی شامل نہیں ہو گی اور ہمیں اپنی آنکھیں بھی کھلی رکھنی ہوں گی۔

برطانوی وزیر داخلہ ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ یہ قتل بین الاقوامی قوانین کی ’صریح خلاف ورزی ہے جو ناقابل قبول ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم مقدمے کے نتائج کو ’ کسی اگلے موقعے پر‘ صدر پوتن کے سامنے رکھیں گے۔

لتوینینکو سابق روسی ایجنٹوں آندرے لوگووئی اور دمتری کووتون کے ساتھ زہریلی چائے پینے کے تین ہفتے بعد لندن میں 23 نومبر 2006 کو انتقال کر گئے تھے۔

22 مئی2007 کو برطانیہ کے پبلک پراسیکیوشن کے ڈائریکٹر نے فیصلہ دیا کہ لتوینینکو کے قتل کا لزام میں لوگووئی پر مقدمہ چلایا جائے۔

پانچ جولائی 2013 کو روس نے لوگووئی کو برطانیہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس کا آئین اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔

مئی اور جولائی 2013 کے دوران لتوینینکو کے قتل کی تحقیقات موخر کر دی گئیں کیونکہ تفتیش کاروں کا خیال تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی پبلک پراسکیوٹر کو کرنی چاہے، لیکن وزارت داخلہ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

11 فروری 2014 کو برطانیہ کی عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا کہ وزارت داخلہ کا درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ غلط تھا جس کے بعد جنوری 2015 میں پبلک انکوائری کا آغاز کر دیا گیا۔

اسی بارے میں