تاجکستان میں داڑھی کے خلاف ’جنگ‘

تاجک مرد
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اس ہفتے کے آغاز میں تقریباً 13 ہزار افراد کی داڑھیاں مونڈی ہیں

’انھوں نے مجھے سلفی، بنیاد پرست اور انسان دشمن کہا۔ اُن میں سے دو نے میرے بازو پکڑے جبکہ ایک اور شخص نے میری آدھی داڑھی مونڈ دی۔‘

جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ جب وہ اپنے سات سالہ بیٹے کے ہمراہ جا رہے تھے تو تاجک پولیس نے اُنھیں اُن کے گھر کے باہر روکا اور اُنھیں دوشنبہ میں تھانے لے گئے جہاں زبردستی اُن کی داڑھی مونڈ دی گئی۔

وہ تاجکستان کے اُن ہزاروں مردوں میں شامل ہو گئے ہیں جنھیں حالیہ چند سالوں کے دوران داڑھی رکھنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔

تاجکستان میں داڑھی منڈوانا اُن رجحانات کی روک تھام کی حکومتی مہم کا حصہ ہے جو ’تاجک ثقافت سے الگ اور متضاد‘ خیال کیے جاتے ہیں۔

اس ہفتے کے آغاز میں تاجکستان کے علاقے ختلون میں پولیس نے کہا کہ اُنھوں نے ’انسدادِ بنیاد پرستی کی مہم‘ کے تحت تقریباً 13 ہزار افراد کی داڑھیاں مونڈی ہیں۔

بی بی سی نے نو دیگر افراد سے بھی بات کی جو اسی طرح کے تجربات سے گزرے تھے۔ پولیس انھیں گلی محلوں سے حراست میں لے کر زبردستی تھانے یا پھر حجام کی دوکان لے گئی جہاں اُن کی داڑھی منڈوا دی گئی۔

حکومت نے اپنے اس عمل کی توجیہ یوں بیان کی ہے کہ وہ بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کی مہم چلا رہی ہے، اور اس بات کے خدشات ہیں کہ وسطی ایشیا بھی دوسرے ممالک جیسے افغانستان، عراق یا شام کے شدت پسندی کے نقشِ قدم کی پیروی کر سکتا ہے۔

تخمینے کے مطابق جون سنہ 2015 کے دوران شام میں 1500 سے چار ہزار کے لگ بھگ وسطی ایشیا کے لوگوں نے مختلف اسلامی شدت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے۔

داڑھی کے خلاف مہم کو تاجک معاشرے میں اسلامی ثقافتی طریقوں کو اپنانے اور سیکیولر روایات کے تحفظ کی وسیع تر حکومتی مہم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 99 فی صد تاجک آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ تاہم سوویت یونین اقتدار کے 70 سالوں کے دوران سرکاری طور پر مذہب مخالف رجحانات کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔

’سیاہ لباس نہ پہنیں‘

Image caption تاجک خواتین کو کہا جا رہا ہے کہ وہ رواتی لباس پہنیں

اسلامی روایات کے خلاف مہم نے خواتین کو بھی متاثر کیا ہے۔ سکولوں اور جامعات میں حجاب لینے پر سرکاری پابندی عائد ہے لیکن عملی طور پر یہ قانون تمام ریاستی اداروں میں نافذ ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس انھوں نے 160 کے قریب ایسی دُکانیں بند کرائی ہیں جہاں حجاب فروخت کیے جاتے تھے، اور 1773 خواتین کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ حجاب پہننا چھوڑ دیں۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے بھی تاجک باشندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’غیر ملکی روایات کے تحت عبادت نہ کریں، غیر ملکی ثقافت کی پیروی نہ کریں، اور سیاہ رنگ کی بجائے روایتی رنگوں اور ڈیزائن کے کپڑے پہنیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہاں تک کہ سوگ میں بھی تاجک خواتین کو سفید رنگ پہننا چاہیے نہ کہ سیاہ۔‘

حکام نے اس سے پہلے والدین کو اپنے بچوں کے عربی یا غیر ملکی طرز کے ناموں کے بجائے روایتی تاجک نام رکھنے کا حکم صادر کیا تھا۔

اس بات کے متعلق کچھ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ پالیسیاں انتہا پسندی کی روک تھام میں موثر ثابت ہو سکیں گی یا نہیں۔

جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ وہ اس انسانیت سوز سلوک کو کبھی نہیں بُھول سکتے جو زبردستی داڑھی منڈوانے کے لیے تھانے میں اُن کے ساتھ روا رکھا گیا۔

اُن کے مطابق: ’سب سے بدترین اُن پولیس والوں کی آزادی ہے، جو لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کا موقع ملنے پر بہت لُطف اندوز ہو رہے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ اس طرح کا طرزِ عمل ہے جو لوگوں کو بنیاد پرست بننے پر اُکسا سکتا ہے۔

اسی بارے میں